ملفوظات (جلد 8) — Page 240
کئے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب دیا۔تب وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے گناہوں کا دس دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کا تو بہت ہی ثواب ملے گا۔یہ سوچ کر وہ بندہ خود ہی اپنے بڑے بڑے گناہ گنائے گا کہ اے خدا! میں نے تو یہ گناہ بھی کئے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس کی بات سن کر ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو! میری مہربانی کی وجہ سے یہ بندہ ایسا دلیر ہوگیا ہے کہ اپنے گناہ خود ہی بتلاتا ہے۔پھر اسے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے تیری طبیعت چاہے داخل ہو جا۔تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے۔اس لیے غیبت کرنے سے بکلّی پرہیز کرنا چاہیے۔۱ ۹تا۱۴؍مارچ۱۹۰۶ء اس ہفتہ میں جملہ دیگر مہمانوں کے ایک حاجی الٰہی بخش صاحب ہیں جو اسی سال حج بیت اللہ سے مشرف ہو کر واپس آتے ہوئے راستہ میں قادیان میں ٹھہر گئے چونکہ وہ گھر نہیں گئے انہوں نے جلد گھر جانے کے واسطے حضرت سے اجازت طلب کی۔مگر آپ نے فرمایاکہ آپ چند دن اور یہاں قیام فرماویں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی سلسلہ قائم ہوتا ہے تو وہ بھی ایک حج کی جگہ ہوتا ہے۔لکھا ہے بایزید نے اپنے ایک مرید کو جو حج کا ارادہ رکھتا تھا کہا کہ تو میرے گرد سات مرتبہ طواف کر یہی تیرا حج ہوجائے گا۔۲ ۱۸؍مارچ ۱۹۰۶ء خدا کی تازہ وحی آج بروز یک شنبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گھر کے مکان میں بیٹھا ہوں اور ایک خربزہ کی شکل پر کوئی پھل میرے ہاتھ میںہے۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۹؍مارچ ۱۹۰۶ءصفحہ ۱۰ ۲بدر جلد ۳نمبر ۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲