ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 241

اس کو چھیل کر کھانا چاہتا ہوں۔اتنے میں میں نے محمود احمد کو دیکھا۔اس کے ساتھ ایک انگریز ہے۔وہ ہمارے گھر میں داخل ہو گیا پہلے اس جگہ کھڑا ہوا جہاں پانی کے گھڑے رکھے جاتے ہیں۔پھر اس چوبارے کی طرف آگے بڑھا جہاں بیٹھ کر میں کام کرتا ہوں۔گویا اس کے اندر جا کر تلاشی کرنا چاہتا ہے۔اس وقت میں نے دیکھا کہ میر ناصر نواب کی شکل پر ایک شخص میرے سامنے کھڑا ہے اس نے بطور اشارہ کے مجھ کو کہا کہ آپ بھی اس چوبارہ میں جائیں۔انگریز تلاشی کرے گا اور میرے دل میں گزرا کہ اس میں صرف وہ کاغذات پڑے ہیں جو نوتالیف کتاب کا مسوّدہ ہے وہی دیکھے گا۔اتنے میں آنکھ کھل گئی۔معلوم نہیں اس واقعہ کی کیا تعبیر ہے؟ اس سے پہلے تھوڑے دن ہوئے ہیں یہ دیکھا تھا یعنی یہ الہام ہوا تھا کہ عورت کی چال ایلی ایلی لما سبقتانی۔بریّت۔اِذْکَفَفْتُ عَنْ بَنِیْ اِسْـرَآءِیْلَ میں نے اپنے اجتہاد سے اس کے یہ معنے سمجھے تھے کہ کوئی شخص عورتوں کی طرح پوشیدہ مکر کرے گا جس سے ممکن ہے کہ ہم پر اس کی دھوکہ دہی سے کوئی مقدمہ ہو مگر آخر بریّت ہوگی۔مگر یہ میرے اجتہادی معنے ہیں اور ممکن ہے کہ جو کچھ میں نے پہلے دیکھا اور جو میں نے اب دیکھا اس کے کوئی اور معنے ہوں لیکن ظاہری معنے یہی ہیں۔واللہ اعلم۔اس خواب میں محمود کا دیکھنا اور پھر میر ناصر نواب کا دیکھنا نیک انجام پر دلالت کرتا ہے کیونکہ محمود کا لفظ خاتمہ محمود کی طرف اشارہ ہے یعنی اس ابتلا کا خاتمہ اچھا ہوگا اور ناصر نواب کا دیکھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ ناصر ہوگا اور اپنی نصرت سے ابتلا سے رہائی دے گا اور آخر یہ ابتلا نشان کی صورت میں ہوجائے گا۔۱ ۱۹؍مارچ ۱۹۰۶ء ایک نشان فرمایا۔اس فکر میں ہوں اور توجہ کرتا ہوں کہ اگر پتہ لگ جائے کہ کس ماہ میں آئندہ زلزلہ آنےوالا ہے تو یہ پھر ایک بڑا نشان ہو جاتا ہے۔متعصب آدمی کا تو کیا ذکر ہے لیکن ۱ بدر جلد ۲نمبر ۱۲ مورخہ ۲۲؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲