ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 238

بھی کبھی کبھی کوئی مذاق کی بات فرمایا کرتے تھے اور بچوں کو بہلانے کے لیے اس کو روا سمجھتے تھے۔جیساکہ ایک بڑھیا عورت نے آپؐسے دریافت کیا کہ حضرت کیا میں بھی جنت میں جاؤں گی؟ فرمایا نہیں۔وہ بڑھیا یہ سن کر رونے لگی۔فرمایا روتی کیوں ہے؟ بہشت میں جوان داخل ہوں گے بوڑھے نہیں ہوں گے یعنی اس وقت سب جوان ہوں گے۔اسی طرح سے فرمایا کہ ایک صحابی کی داڑھ میں درد تھا۔وہ چھوارا کھاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوارا نہ کھا کیونکہ تیری داڑھ میں درد ہے۔اس نے کہا میں دوسری داڑھ سے کھاتا ہوں۔پھر فرمایاکہ ایک بچہ کے ہاتھ سے ایک جانور جس کو نُـغَیْـر کہتے ہیں چھوٹ گیا۔وہ بچہ رونے لگا۔اس بچہ کا نام عُمیر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُـمَیْـرُ! مَا فَعَلَتْ بِکَ نُـغَیْـرُ ؟ اےعمیر نُـغَیْـر نے کیا کیا؟ لڑکے کو قافیہ پسند آگیا۔اس لیے چپ ہوگیا۔بچوں کو تنبیہ کرنا ضروری ہے ایک بچہ کی خبر لگی کہ اس نے کوئی شرارت کی ہے یعنی آگ سے کچھ جلا دیا ہے۔فرمایا۔بچوں کو تنبیہ کر دینا بھی ضروری ہے اگر اس وقت ان کو شرارتوں سے منع نہ کیا جاوے تو بڑے ہو کر اس کا انجام اچھا نہیںہوتا۔بچپن میں اگر لڑکے کو کچھ تادیب کی جاوے تو وہ اس کو خوب یاد رہتی ہے کیونکہ اس وقت حافظہ قوی ہوتاہے۔۱ اظہار تشکر ایک دن حضور علیہ السلام بیمار تھے۔ایک شخص کو کچھ چیزیں فواکہ کی قسم سے لانے کے لیے امرتسر بھیجا۔جب وہ آیا تو اس وقت حضرت کی طبیعت زیادہ ناساز تھی اس وقت ایک میوہ کی خواہش ہوئی جو اس شخص سے منگوایا تھا۔لیکن وہ امرتسر سے نہیں لایا تھا۔تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ قاضی نظیر حسین صاحب تحصیلدار تشریف لائے اور وہی پھل ساتھ لائے۔آپ نے فرمایا۔ہمارے گھر کے لوگوں کو ان چیزوں کے کھاتے وقت خیال کرنا چاہیے کہ آج ۱ نوٹ از ایڈیٹر۔اس موقعہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت صاحب بچوں کو ہر وقت مارنے اور جھڑکتے رہنے سے بھی سخت منع کرتے ہیں۔ہر ایک کام ایک اندازہ تک ہونا چاہیے۔مندرجہ بالا ذکر سے مراد حضور علیہ السلام کی یہ ہے کہ بچہ کو بالکل آوارہ نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔