ملفوظات (جلد 8) — Page 233
صرف ترک بدی قابل فخر نہیں فرمایا کہ صرف بدی کو ترک کرنا کوئی درجہ نہیں رکھتا۔اس کے بالمقابل نیکی اختیار کرنی چاہیے۔ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ ایک دوست کے ہاں دعوت کے واسطے گیا۔اس دوست نے بہت پُر تکلف دعوت پکائی اور ہر طرح سے اس کی خاطر کی۔جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو کہنے لگا کہ آپ نے میرے واسطے بہت تکلیف اٹھائی اور عمدہ کھانا کھلایا۔مگر میں نے بھی آپ پر ایک بھاری احسان کیا۔میزبان نے کہا کہ آپ بیان فرمائیں تاکہ اور بھی زیادہ آپ کا مشکور اورممنون احسان ہوجاؤں۔تب اس نے کہا کہ جب آپ گھر میں نہ تھے اور میں یہاں اکیلا تھا اگر اس وقت میں آپ کے گھر کو آگ لگا دیتا تو آپ کا کئی ہزار روپے کا مکان اور اسباب سب جل کر راکھ ہوجاتا۔اس شخص نے ترکِ بدی پر فخرکیا۔لیکن اس مثال سے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ترکِ بدی میں کوئی عمدگی اور فخر نہیں۔۱ یکم تا ۸؍فروری ۱۹۰۶ء خوفناک وقت میں بچ رہنا محض اللہ کے فضل پر منحصر ہے ایک دوست نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور کو الہام ہوا کہ ۲۵؍ فروری کے بعد جانا ہوگا تو کیا اب ہم شہر کے باہر کوئی مکان لے لیں؟ فرمایا۔اس کا مطلب ہم ابھی نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہے اور نہ ہم ابھی باہر جانے کے واسطے کوئی مشورہ دیتے ہیں۔علاوہ ازیں ایسے خوفناک وقت میں بچ رہنا محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم پر منحصر ہے۔صرف اندر رہنا یا باہر جانا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا یہ تو ظاہری اسباب ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ سچے دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہیے۔اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۰۶ءصفحہ ۲