ملفوظات (جلد 8) — Page 228
مثلاً راج کا کام میں نہیں جانتا میں اس کے کام پر کوئی اعتراض نہیں کرتا نہ اس کے کام کی اصلاح کرتا ہوں۔اگر گورنمنٹ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ایسا آدمی ملازم رکھتی ہے جس نے اس فن میں بہت محنت اور کوشش کر کے ایک استعداد پیدا کی ہوئی ہوتی ہے۔کیساہی کوئی دھرم آتما ہو اگر وہ سرکاری قانون سے آگاہ نہیں تو جج نہیں بن سکتا۔اس طرح دنیوی اصلاحوں کی ایک علیحدہ شاخ ہے۔جیسا کہ لوگ نئے نئے قسم کی ایجادیں کر کے پہلے سے بہتر گاڑیاں اور اوزار اور سامان بناتے ہیں یہ بھی ایک اصلاح ہے۔ہاں نیک دل لوگ بھی اصلاح کے واسطے ہی آتے ہیں۔لیکن دنیوی امور میں ان کا دخل ایک عام اتفاق تک ہوتا ہے کہ بد چلنی نکل جاوے اور لوگ تمام کام نیک نیتی سے پورے کریں۔باقی علوم فنون دنیا دار ہی جانتے ہیں۔دینی مصلح ایک عام اصلاح کرتا ہے جو رفاہِ عام کے متعلق ہو۔آریہ۔جیسا کہ تمام اشیاء قدرت نے ہم کو دی ہیں جو ہماری دوسری ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔ایسا ہی گیان کے واسطے بھی قدرت نے ہم کو ایک شے دی ہے اور وہ وید ہیں۔آریہ سماج کا یہ کام ہے کہ ویدوں کی تعلیم کو پھیلائیں۔حضرت۔وہ انتہائی نقطہ کون سا ہے جس کی طرف ویدوںکی تعلیم لے جاتی ہے۔آریہ۔جسم کی ترقی سماج کی ترقی اور روح کی ترقی۔حضرت۔روحانی ترقی کیا ہے؟ آریہ۔موکش پانا (نجات حاصل کرنا)۔حضرت۔یہ تو سب کا دعویٰ ہے۔لیکن ایک ادعائی رنگ ہوتا ہے جو صرف خیالی رنگ اور وہم تک محدود ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کام کر لیا ہے۔لیکن اس میں ایک امتیازی رنگ ہونا چاہیے جس سے تمیز ہوجاوے کہ اس میں نجات ہے اور اس میں نہیں۔خیر اس وقت ہم ویدوں کی تعلیم پر حملہ نہیں کرتے۔فرض کرو وہ سب تعلیم عمدہ ہے۔لیکن ممکن ہے کہ وہ کسی کی نقل ہو۔مثلاً جاپان اس وقت ایک طاقت بن گئی ہے لیکن ان کی سب باتیں یورپ کی نقل ہیں۔ایسا ہی پارسی کہتے ہیں کہ ژند اوستا