ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 227

حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتی رہیں۔ایک دن ان میں سے ایک آریہ کے ساتھ حضرت کی کچھ گفتگو ہوئی جس کا اندراج دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔آریہ صاحب سے گفتگو کرنے کے وقت درمیان میں ایک سکھ بول اٹھا اور اس نے چاہا کہ حضرت کے ساتھ کچھ گفتگو کرے مگر آپ نے نرمی کے ساتھ اس کو کہا کہ ہم تمہاری عزت کرتے ہیں اور تمہارے ساتھ ہمارا کوئی مباحثہ نہیں کیونکہ ہم باوا نانک کو ہندوؤں کے درمیان ایک اوتار اور بزرگ مانتے ہیں اور اس کو ایک پاک آدمی سمجھتے ہیں۔پس جبکہ تمہارے مقصد کو ہم پہلے سے ہی مانتے ہیں تو تمہارے ساتھ مباحثہ کرنے کی ہمیں حاجت نہیں۔اس کے بعد آپ آریہ کی طرف مخاطب ہوئے جس کا نام پورن چند تھا جو کہ ہوشیار پور کے رہنے والے ایک صاحب تھے۔حضرت۔آریوں میںجو لوگ بڑے بڑے لیکچر دیتے ہیں۔اور قوم کی پست حالت کو ترقی دینا چاہتے ہیں ان کی علّت غائی کیا ہے؟ ہر ایک قوم اپنے لیے ایک انتہائی مقصد رکھتی ہے۔سو وہ انتہائی مقصد تمہارے ریفارمروں کا کیا ہے؟ لیکن مصلحین کے مقاصد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جو دنیوی امور کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جو دینی امور کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔میرا مطلب اس وقت دینی امور میں اصلاح کرنے والوں سے ہے کہ وہ اپنا انتہائی مقصد کیا رکھتے ہیں؟ آریہ۔ہمارے نزدیک دین دنیا سے علیحدہ نہیں۔دینی لوگ ہی دنیا کے کاموں کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور عمدگی سے کر سکتے ہیں۔اس واسطے ہم دونوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ہم دنیا داری کی اصلاح دین میں شامل رکھتے ہیں۔حضرت۔میں قبول کرتا ہوں کہ جس شخص کی دین میں آنکھ کھلتی ہے وہ دنیا کے معاملات میں بھی راستی اور دیانت اختیار کرتا ہے اور اس کے بغیر دنیا نہیں سنورتی۔لیکن میرا مطلب اس جگہ صرف دین کے متعلق سوال کرنے اور دنیا کو علیحدہ رکھنے سے یہ ہے کہ دنیا کے واسطے ایک خاص عقل بھی ہوتی ہے۔