ملفوظات (جلد 8) — Page 222
کامیابی کبھی نصیب نہ ہوئی۔بلکہ آپ کے متعلق ایک ایسا نکتہ ہے جو آپ کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ایسے وقت تشریف لائے جبکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم:۴۲) کا وقت تھا یعنی اہل کتاب بھی بگڑ چکے تھے اور غیر اہل کتاب بھی بگڑے ہوئے تھے۔اور یہ بات مخالفوں کی تصدیق سے بھی ثابت ہے۔پنڈت دیانند صاحب کہتے ہیں کہ آریہ ورت میں بُت پرستی ہو رہی تھی اور اس طرف عرب میں بھی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔عیسائیوں کے مذہب کا خاصہ یہ رہ گیا تھا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا تھا۔غرض جس طرف دیکھو ایک تاریکی چھائی ہوئی تھی اور خدا تعالیٰ سے بالکل غفلت اور لاپروائی ہو چکی تھی اور وہ وقت پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ ضرورت علوم کی ماں ہوتی ہے۔ہر قسم کا علم ضرورت سے پیدا ہوا ہے۔طب، طبعی، ہیئت، جغرافیہ وغیرہ تمام علوم کی ماں ضرورت ہی ہے۔پس اگر سمجھ دار ہو تو سمجھ لے کہ اس دقیقہ معرفت۱ کی ماں بھی کوئی عظیم الشان ضرورت ہے۔بہت سے صحابہؓ آپ پر ایمان لائے یہ دیکھ کر کہ آپ ایسے وقت آئے ہیں جو سخت ضرورت کا وقت ہے۔اگر آپ نہ آتے تو شاید نوح کی طرح ایک طوفان آکر دنیاکو ہلاک کر دیتا۔میں یقیناً جانتا ہوں اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آپ کے لیے ایسا اجلٰی اور اصفٰی نظارہ ضرورتوں کا ہے کہ کسی دوسرے کے لیے وہ میسر نہیں اور حضرت عیسیٰ کے لیے تو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔فقیہ اور فریسی موجود تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی گدی پر بیٹھتے تھے۔اس لیے انہوں نے کسی نئی شریعت کا دعویٰ ہی نہیں کیا اور پھر جبکہ یہودیوں کے اس قدر گروہ موجود تھے تو نہیں کہہ سکتے کہ سب منحرف تھے۔بعض عامل بھی تھے اور وحی اور الہام کا بھی دعویٰ کرتے تھے کیا ان میں کوئی ایسا تھا جو انسان کو خدا بناتا ہو؟ وہ تو موجودہ عیسائی مذہب سے بھی اچھے تھے۔موحد تھے۔میں نے زین الدین ابراہیم کی معرفت بمبئی میں ایک یہودی عالم سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ انسان خدا ہوگا۔اس نے قسماً کہا کہ ہرگز نہیں۔ہم تو اسی خدا کومانتے ہیں جو قرآن میں بیان ہوا ہے۔ہم انسان کو خدا کہنا کفر سمجھتے ہیں جو تمام لوازمِ ضعف، ناتوانی، بیماری کے رکھتا ہے۔یہ لعنتی مذہب ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے۔۱ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت(ایڈیٹر الحکم)