ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 221

کہ جیسے دولت پر سانپ ہوتا ہے تاکہ نا محرم پاس نہ جاوے۔اسی طرح پر انبیاء و رسل بھی ایک بے نظیر دولت ہوتے ہیں خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ سعید اور رشید ہی ان تک پہنچیں۔اس لیے ان پر قسم قسم کے اعتراض ہوتے ہیں تاکہ وہ لوگ جو اہل نہیں ہیں دور رہیں۔ورنہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ نہ جہاد کرتے، نہ بیویاں کرتے، نہ اعتراض ہوتے۔مگر وہ نبی جس کی تعلیم اَتم اور اکمل تھی اس کے لیے خدا نے نہ چاہاکہ اسے نا اہل قبول کریں۔اس لیے چند باتیں ایسی رکھ دیں جو نظر بد دور کا کام دیتی ہیں اور ان پر اعتراض ہوا اور نا اہل الگ رہے مگر جو لوگ اہل تھے انہوں نے حقیقت کو پالیا۔دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک نکتہ چین اور معترض یہ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اور نبی کے صدق و وفا کو دیکھتے ہیں۔وہ اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے عجائبات مشاہدہ کرتے ہیں۔وہ اس کے حالات سے خبر پاتے ہیں اور انہیں حاجت نہیں ہوتی کہ کچھ اور دیکھیں۔بد بخت نااہل وہ باتیں دیکھتے ہیں جن سے شقاوت بڑھے۔میں نے تذکرۃ الاولیاء میں ایک لطیفہ دیکھا کہ ایک شخص ایک بزرگ کی نسبت بدگمانی رکھتا تھا کہ یہ مکار ہے اور فاسق ہے۔ایک دن ان کے پاس آیا اور کہا کہ حضرت کوئی کرامت تو دکھاؤ۔فرمایا میری کرامت تو ظاہر ہے۔باوجودیکہ تم تمام دنیا کے معاصی مجھ میں بتاتے ہو مگر پھر دیکھتے ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے غرق نہیں کرتا۔لوط کی بستی تباہ ہوئی۔عاد و ثمود وغیرہ تباہ ہوئے۔مگر مجھ پر غضب نہیں آتا۔کیا یہ تیرے لیے کرامت نہیں ہے؟ بات بڑی لطیف ہے۔یعنی عیوب پیدا کرنے والے لوگوں کو یہ بھی تو چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ وہ شخص جو منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جس پر اس قدر اعتراض اور نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں۔وہ جو ہلاک نہیں ہوتا کیا خدا بھی اس سے دھوکہ میں ہی رہا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حقیقت سمجھی کہ معاذ اللہ آپ افترا کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وہ نصرت دی اور وہ فضیلت دی کہ آدم سے اخیر تک کسی کو وہ