ملفوظات (جلد 8) — Page 13
عاجز۱ کو فرمایا کہ ایسے بزرگوں کی فہرست بناؤ تاکہ جانے کے متعلق انتظام کیا جائے۔حاضرین نے یہ نام لکھائے۔(ا) شاہ ولی اللہ صاحب (۲) خواجہ نظام الدین صاحب (۳)جناب قطب الدین صاحب (۴) خواجہ باقی باللہ صاحب (۵) خواجہ میر درد صاحب (۶) جناب نصیرالدین صاحب چراغ دہلی۔چنانچہ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا اور حضرت بمعہ خدّام گاڑیوں میں سوار ہو کر سب سے اوّل حضرت خواجہ باقی باللہ کے مزار پر پہنچے۔راستہ میں حضرت نے زیارت قبور کے متعلق فرمایا۔قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لیے ایک سنت ہے۔یہ ثواب کا کام ہے اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آجاتا ہے۔انسان اس دنیا میں مسافر ہے۔آج زمین پر ہے تو کَل زمین کے نیچے ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان قبر پر جاوے تو کہے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اِنَّا اِنْ شَاءَ اللہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ۔زیارت قبور کے آداب خواجہ باقی باللہ کی مزار پر جب ہم پہنچے تو وہاں بہت سی قبریں ایک دوسرے کے قریب قریب اور اکثر زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔میں نے غور سے دیکھا کہ حضرت اقدس نہایت احتیاط سے ان قبروں کے درمیان سے چلتے تھے تاکہ کسی کے اوپر پاؤں نہ پڑے۔قبر خواجہ صاحب پر پہنچ کر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔بعد دعا مَیں نے عرض کی کہ قبر پر کیا دعا کرنی چاہیے تو فرمایا کہ صاحبِ قبر کے واسطے دعائے مغفرت کرنی چاہیے اور اپنے واسطے بھی خدا سے دعا مانگنی چاہیے۔انسان ہر وقت خدا کے حضور دعا کرنے کا محتاج ہے۔قبر کے سرہانے کی طرف ایک نظم خواجہ صاحب مرحوم کے متعلق لکھی ہے۔بعد دعا آپ نے وہ نظم ۱ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ (مرتّب)