ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 215

میری روح، میری جان، میری ہڈیوں، میرے بال بال نے تجھے سجدہ کیا۔اب اگر عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس معاملہ کی خبر نہ ہوتی تو کس کو معلوم ہوتا کہ آپ اپنے رب کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں۔اسی طرح آپ کے مجاہدات اور عبادات کا حال تھا۔چونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی عادت میں رکھ دیتا ہے کہ وہ اخفا کرتے ہیں اس لیے دنیا کو پورے حالات کی خبر بھی نہیں ہوتی۔وہ دنیا کے لیے تو کچھ کرتے ہی نہیں۔جس سے معاملہ اور تعلق ہوتا ہے وہ ہر جگہ جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً نیکیاں کرنے کا حکم پس مومنوں کو بھی دو ہی قسم کی زندگی بسر کرنے کا حکم ہے سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً (ابراہیم:۳۲)۔بعض نیکیاں ایسی ہیں کہ وہ علانیہ کی جاویں اور اس سے غرض یہ ہے کہ تا اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی تحریک ہو اور وہ بھی کریں۔جماعت نماز علانیہ ہی ہے اور اس سے غرض یہی ہے کہ تا دوسروں کو بھی تحریک ہو اور وہ بھی پڑھیں۔اور سِرًّا اس لیے کہ یہ مخلصین کی نشانی ہے جیسے تہجد کی نماز ہے۔یہاں تک بھی سِرًّا نیکی کرنے والے ہوتے ہیںکہ ایک ہاتھ سے خیرات کرے اور دوسرے کو علم نہ ہو۔اس سے بڑھ کر اخلاص مند ملنا مشکل ہے۔انسان میں یہ بھی ایک مرض ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے سمجھیں مگر میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ میری جماعت میں ایسے بھی لوگ ہیں جو بہت کچھ خرچ کرتے ہیں مگر اپنا نام تک ظاہر نہیں کرتے۔بعض آدمیوں نے مجھے کئی مرتبہ پارسل بھیجا ہے اور جب اسے کھولا ہے تو اندر سے سونے کا ٹکڑا نکلا ہے یا کوئی انگشتری نکلی ہے اور بھیجنے والے کا کوئی پتہ ہی نہیں۔کسی انسان کے اندر اس مرتبہ اور مقام کا پیدا ہونا چھوٹی سی بات نہیں اور نہ ہر شخص کو یہ مقام میسر آتا ہے۔یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے صفات پر ایمان لاتا ہے اور اس کے ساتھ اسے ایک صافی تعلق پیدا ہوتا ہے۔دنیا اور اس کی چیزیں اس کی نظر میں فنا ہوجاتی ہیں اور اہل دنیا کی تعریف یا مذمت کا اسے کوئی خیال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس مقام پر جب انسان پہنچتا ہے تو وہ فنا کو زیادہ پسند کرتا ہے اور