ملفوظات (جلد 8) — Page 211
حقیقت میں وہی بات ہے جو ان اعمال کا بھی موجب اور باعث ہوتی ہے۔جس قدر لوگ اہل اللہ گذرے ہیں ان کے مدارج نرے ان اعمال کی وجہ سے نہیں ہیں۔ان اعمال میں اور بھی شریک ہیں۔مسجدیں بھری پڑی ہیں۔۱ ان لوگوں کی زندگی سفلی ہوتی ہے۔یہ دنیا اور اس کی گندگیوں کو چھوڑ کر الگ نہیں ہوتے۔ان کے اعمال میں زندگی کی روح نہیں ہوتی۔لیکن جب انسان اس سفلی زندگی سے نکل آتا ہے تو اس کے اعمال میں اخلاص ہوتا ہے۔وہ ہر قسم کی ناپاکیوں سے الگ ہوجاتا ہے۔پھر اسے وہ قوت اور طاقت ملتی ہے کہ وہ شے اور امانت اللہ جس کو اٹھانا مشکل ہے وہ اٹھا لیتا ہے جس کی اطلاع فرشتوں کو بھی نہیں ہوتی۔وہ بھی یہی نماز روزہ کرتے ہیں اور دنیا بھی یہی کرتی ہے۔مگر ان کی نماز اور دنیا داروں کی نماز میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔حضرت سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ بڑے مخلص اور شان کے لائق تھے۔کیا ان کے عہد میں لوگ نماز روزہ نہ کرتے تھے؟ پھر ان کو سب پر سبقت اور فضیلت کیوں ہے؟ اس لیے کہ دوسروں میں وہ بات نہ تھی جو ان میں تھی۔یہ ایک روح ہوتی ہے جب پیدا ہو جاتی ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدوں میں شامل کر لیتا ہے۔لیکن وہ ملعونی زندگی خدا کو منظور نہیں جو نماز روزہ کی حالت اور صورت میں ریاکاری اور تصنع سے آدمی بنا لیتا ہے ایسے لوگوں میں زبان کی چالاکیاں اور منطق بڑھ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو لاف گزاف پسند نہیں وہ ناراض ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ نماز روزہ اور زکوٰۃ و صدقات کسی وقعت اور قدر کے لائق نہیں جن میں اخلاص نہ ہو بلکہ وہ لعنت ہیں یہ اسی وقت بابرکت ہوتے ہیں جب دل اور زبان میں پوری صلح ہو۔خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔وہ دل کے نہاں در نہاں اسرار سے واقف ہے۔انسان جو محدود العلم ہے اور جس کی نظر وسیع نہیں ہے دھوکا کھا سکتا ہے۔ہمارے دوست سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب جو بڑے مخلص اور نیک آدمی ہیں۔انہوں نے ایک مرتبہ ایک ہیرے کے متعلق دھوکہ کھایا۔سیٹھ صاحب یہاں قادیان ہی میں میرے پاس موجود تھے۔ایک شخص کابل کی ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲،۳