ملفوظات (جلد 8) — Page 200
خون نہیں کیا۔چوری نہیں کی۔یہ کوئی فضیلت ہے کہ بُرے کاموں سے بچنے کا فخر حاصل کرتا ہے؟ دراصل وہ جانتا ہے کہ چوری کرے گا تو ہاتھ کاٹا جاوے گا۔یا موجودہ قانون کے رو سے زندان میں جاوے گا۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ایسی چیز کا نام نہیں ہے کہ بُرے کام سے ہی پرہیز کرے بلکہ جب تک بدیوں کو چھوڑ کر نیکیاں اختیار نہ کرے وہ اس روحانی زندگی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔نیکیاں بطور غذا کے ہیں۔جیسے کوئی شخص بغیر غذا کے زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح جب تک نیکی اختیار نہ کرے تو کچھ نہیں۔قرآن شریف میں ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ دو حالتیں ہوتی ہیں۔ایک حالت تو وہ ہوتی ہے يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا (الدّ ھر:۶) یعنی ایسا شربت پی لیتے ہیں جس کو ملونی کافور ہو۔اس سے یہ مطلب ہے کہ دنیا کی محبت سے دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔کافور ٹھنڈی چیز ہے اور زہروں کو دبا لیتا ہے۔ہیضہ اور وبائی امراض کے لیے مفید ہے۔پس پہلا مرحلہ تقویٰ کا وہ ہے جس کو استعارہ کے رنگ میں يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا۔ایسے لوگ جو کافوری شربت پی لیتے ہیں ان کے دل ہر قسم کی خیانت، ظلم، ہر نوع کی بدی اور بُرے قویٰ سے دل ٹھنڈے ہوتے ہیں۔اور یہ بات ان میں طبعاً اور فطرتاً پیدا ہوتی ہے نہ کہ تکلّف سے۔وہ ہر قسم کی بدیوں سے بیزار ہو جاتے ہیں یہ سچ ہے کہ یہ معمولی بات نہیں۔بدیوں کا چھوڑ دینا آسان نہیں۔انجیل کا اکثر حصہ اسی سے پُر ہے کہ بُرے کام نہ کرو۔مگر یہ پہلا زینہ ہے تکمیل ایمان کا۔اسی پر قانع نہیں ہو جانا چاہیے۔ہاں اگر انسان اس پر عمل کرے اور بدیوں کو چھوڑ دے تو دوسرے حصہ کے لیے اللہ تعالیٰ آپ ہی مدد دیتا ہے۔یہ بات انسان منہ سے تو کہہ سکتا ہے کہ میں بدیوں سے پرہیز کرتا ہوں۔لیکن جب مختلف قسم کے بُرے کام سامنے آتے ہیں تو بدن کانپ جاتا ہے۔بعض گناہ موٹے موٹے ہوتے ہیں مثلاً جھوٹ بولنا، زنا کرنا، خیانت، جھوٹی گواہی دینا اور اتلافِ حقوق، شرک کرنا وغیرہ۔لیکن بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جوان سے بوڑھا ہوجاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے۔مثلاً گلہ