ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 197

کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا کیا ہے۔ایسے شبہات ہمیشہ دنیا داری کے رنگ میں پیدا ہوا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو توفیق بھی نہیں ملتی۔لیکن جو لوگ محض خدا تعالیٰ کے لیے قدم اٹھاتے ہیں اور اس کی مرضی کو ہی مقدم کرتے ہیں اور اس بنا پر جو کچھ بھی خدمت دین کرتے ہیں اس کے لیے اللہ تعالیٰ خود انہیں توفیق دے دیتا ہے اور اعلاءِ کلمۃ الاسلام کے لیے جن اموال کو وہ خرچ کرتے ہیں ان میں برکت رکھ دیتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور جو لوگ صدق اور اخلاص سے قدم اٹھاتے ہیں انہوں نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح پر اندر ہی اندر انہیں توفیق دی جاتی ہے۔وہ شخص بڑا نادان ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (المنافقون:۸) یعنی خدا کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں۔منافق اس کو سمجھ نہیں سکتے لیکن مومن اس پر ایمان لاتا اور یقین کرتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر سب لوگ جو اس وقت موجود ہیں اور اس سلسلہ میں داخل ہیں یہ سمجھ کر کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے وہ دست بردار ہو جائیں اور بخل سے یہ کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ ایک اور قوم پیدا کر دے گا جو ان سب اخراجات کا بوجھ خوشی سے اٹھائے اور پھر بھی سلسلہ کا احسان مانے۔ایک عظیم نشان اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلہ کو بڑھائے۔پس کون ہے جو اسے روک لے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ بادشاہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔پھر وہ جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے کب تھک سکتا ہے۔آج سے ۲۵ برس بلکہ اس سے بھی بہت پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ایسے وقت میں کہ ایک شخص بھی میرے پاس نہ آتا تھا اور کبھی سال بھر میں بھی کوئی خط نہ آتا تھا۔اس گمنامی کی حالت میں مَیں نے جو دعوے کئے ہیں وہ براہین احمدیہ میں چھپے ہوئے موجود ہیں اور یہ کتاب مخالفوں موافقوں کے پاس موجود ہے بلکہ ہندوؤں عیسائیوں تک کے پاس بھی ہے۔مکہ، مدینہ اور قسطنطنیہ تک بھی پہنچی۔اسے کھول کر دیکھو کہ اس وقت خدا نے فرمایا يَاْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ وَ یَاْتِیْکَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ یعنی تیرے پاس دور دراز جگہوں سے لوگ آئیں گے اور جن راستوں سے آئیں گے وہ راہ عمیق ہو جائیں گے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ جو کثرت سے آئیں گے