ملفوظات (جلد 8) — Page 195
ہمارا مسلک سب کی خیر خواہی ہے فرمایا۔ہمیں کسی کے ساتھ بغض و عداوت نہیں۔ہمارا مسلک سب کی خیر خواہی ہے۔اگر ہم آریوں یا عیسائیوں کے برخلاف کچھ لکھتے ہیں تو وہ کسی دلی عناد یا کینہ کا نتیجہ نہیں ہوتا۔بلکہ اس وقت ہماری حالت اس جرّاح کی طرح ہوتی ہے جو پھوڑے کو چیر کر اس پر مرہم لگاتا ہے۔نادان بچہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص میرا دشمن ہے اور اس کو گالیاں دیتا ہے۔مگر جرّاح کے دل میں نہ غصہ ہے نہ رنج نہ اس کو گالیوں پر کوئی غضب آتا ہے۔وہ ٹھنڈے دل سے اپنی خیر خواہی کا کام کرتا چلا جاتا ہے۔صحبت مسیح موعود کی برکت مدرسہ کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس جگہ طلباء کا آکر پڑھنا بہت ضروری ہے۔جو شخص ایک ہفتہ ہماری صحبت میں آکر رہے وہ مشرق مغرب کے مولوی سے بڑھ جائے گا۔جماعت کے بہت سے لوگ ہمارے رو برو ایسے طیار ہونے چاہئیں جو آئندہ نسلوں کے واسطے واعظ اور معلّم ہوں اور لوگوں کو راہِ راست پر لاویں۔۱ ۲۹؍دسمبر ۱۹۰۵ء ۲۹؍دسمبر ۱۹۰۵ء کی صبح کو ۹ بجے مہمان خانہ جدید میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ایک عام مجلس ہوئی۔جس قدر مہمان مختلف شہروں اور قصبوں سے آئے ہوئے تھے وہ سب کے سب موجود تھے جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک لمبی تقریر فرمائی۔اس تقریر کا مضمون اور مفہوم یہ تھا کہ چونکہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی غرض اور غایت یہ ہے کہ اسلام کی عام اشاعت اور تبلیغ ہو اور ہمارے یہاں ایک ایسی جماعت پیدا ہو جو اپنی علمی اور عملی قابلیتوں کی وجہ سے ممتاز ہو کر اس خدمت کو سر انجام دے۔اس لیے تین دن سے مدرسہ کے جدید انتظام کے مسئلہ پر غور کیا جاتا رہا ہے اور آخر یہ فیصلہ ہوا ہے کہ مدرسہ بصورت موجودہ بھی قائم رہے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲ مورخہ ۱۲؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳