ملفوظات (جلد 8) — Page 194
ایام جلسہ دسمبر ۱۹۰۵ء حضرت مولوی عبد الکریم مرحوم کا ذکر خیر باہر بہشتی مقبرہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا ذکر تھا۔فرمایا۔وہ اس سلسلہ کی محبت میں بالکل محو تھے۔جب اوائل میںمیرے پاس آئے تھے تو سید احمد کے معتقد تھے۔کبھی کبھی ایسے مسائل پر میری ان کی گفتگو ہوتی جو سید احمد کے غلط عقائد میں تھے اور بعض دفعہ بحث کے رنگ تک نوبت پہنچ جاتی۔مگر تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک دن علانیہ کہا کہ آپ گواہ رہیں کہ آج میں نے سب باتیں چھوڑ دیں۔اس کے بعد وہ ہماری محبت میں ایسے محو ہوگئے تھے کہ اگر ہم دن کو کہتے کہ ستارے ہیں اور رات کو کہتے کہ سورج ہے تو وہ کبھی مخالفت کرنے والے نہ تھے۔ان کو ہمارے ساتھ ایک پورا اتحاد اور پوری موافقت حاصل تھی۔کسی امر میں ہمارے ساتھ خلاف رائے کرنا وہ کفر سمجھتے تھے۔ان کو میرے ساتھ نہایت درجہ کی محبت تھی اور وہ اصحاب الصفہ میں سے ہوگئے تھے جن کی تعریف خدا تعالیٰ نے پہلے سے اپنی وحی میں کی تھی۔ان کی عمر ایک معصومیت کے رنگ میں گذری تھی اور دنیا کی عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔نوکری بھی انہوں نے اسی واسطے چھوڑ دی تھی کہ اس میں دین کی ہتک ہوتی ہے۔پچھلے دنوں میں ان کو ایک نوکری دو سو روپے ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔خاکساری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گذار دی۔صرف عربی کتابوں کے دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔اسلام پر جو اندرونی بیرونی حملے پڑتے تھے ان کے اندفاع میں اپنی عمر بسر کردی۔باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ہمیشہ ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔ان کے متعلق ایک خاص الہام بھی تھا۔’’مسلمانوں کا لیڈر‘‘ غرض میں جانتا ہوں کہ ان کا خاتمہ قابلِ رشک ہوا کیونکہ ان کے ساتھ دنیا کی ملونی نہ تھی۔جس کے ساتھ دنیا کی ملونی ہوتی ہے اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا۔انجام نیک ان کا ہوتا ہے جو فیصلہ کر لیتے ہیں کہ خدا کو راضی کرنے میں خاک ہوجائیں گے۔