ملفوظات (جلد 8) — Page 193
پاک ہے میں تو ایک انسان رسول ہوں۔انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔یہی سنّت اللہ قدیم سے جاری ہے۔قرآن شریف حدیث پر مقدم ہے ایک اور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ غلط بات ہے۔قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور حدیث کا مرتبہ ظنی ہے۔حدیث قاضی نہیں، بلکہ قرآن اس پر قاضی ہے۔ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہیے۔حدیث کو اس حد تک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہو۔لیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مردود قول ہے۔لیکن قرآن شریف کے سمجھنے کے واسطے حدیث ضروری ہے۔قرآن شریف میں جو احکامِ الٰہی نازل ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عملی رنگ میں کر کے اور کرا کے دکھا دیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں نہ آسکتا۔لیکن اصل قرآن ہے۔بعض اہلِ کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست ایسی احادیث سنتے ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں ہوئیں یا موجودہ احادیث کی تصدیق کر لیتے ہیں۔غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جن سے خدا تعالیٰ ناراض ہے اور جو اسلامی رنگ سے بالکل مخالف ہیں۔اس واسطے اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کو مسلمان نہیں جانتا جب تک کہ وہ غلط عقائد کو چھوڑ کر راہِ راست پر نہ آجاویں اور اس مطلب کے واسطے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے کہ میں ان سب غلطیوں کو دور کرکے اصلی اسلام پھر دنیا پر قائم کروں۔یہ فرق ہے ہمارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان۔ان کی حالت وہ نہیں رہی جو اسلامی حالت تھی۔یہ مثل ایک خراب اور نکمّے باغ کے ہوگئے۔ان کے دل ناپاک ہیں اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک نئی قوم پیدا کرے جو صدق اور راستی کو اختیار کر کے سچے اسلام کا نمونہ ہو۔۱ ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۳،۴