ملفوظات (جلد 8) — Page 189
ہوا ہے آخر کسی کا ہے۔ان باتوں کو سوچ کر اگر اس پر نہیں گرتا اور لالچ نہیں کرتا تو فی الحقیقت پوری عفت اور تقویٰ سے کام لیتا ہے ورنہ اگر نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے تو اس وقت اس کی حقیقت کھل جاوے گی اور وہ اسے لے لے گا۔اسی طرح ایک شخص جس کے متعلق یہ خیال ہے کہ وہ ریا نہیں کرتا۔جب ریا کا وقت ہو اور وہ نہ کرے تو ثابت ہوگا کہ نہیں کرتا۔لیکن جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا بعض اوقات ان عادتوں کا محل ایسا ہوتا ہے کہ وہ بدل کر نیک ہوجاتی ہیں۔چنانچہ نماز جو باجماعت پڑھتا ہے اس میں بھی ایک ریا تو ہے لیکن انسان کی غرض اگر نمائش ہی ہو تو بیشک ریا ہے اور اگر اس سے غرض اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری مقصود ہے تو یہ ایک عجیب نعمت ہے۔پس مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھو اور گھروں میں بھی۔ایسا ہی ایک جگہ دین کے کام کے لیے چندہ ہو رہا ہو۔ایک شخص دیکھتا ہے کہ لوگ بیدار نہیں ہوتے اور خاموش ہیں۔وہ محض اس خیال سے کہ لوگوں کو تحریک ہو سب سے پہلے چندہ دیتا ہے۔بظاہر یہ ریا ہوگی لیکن ثواب کا باعث ہوگی۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا (لقمان:۱۹) زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ایک جنگ میں ایک شخص اکڑ کر اور چھاتی نکال کر چلتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ فعل خدا تعالیٰ کو ناپسند ہے لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے۔پس ع گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی خُلق کی تعریف غرض خُلق محل پر مومن اور غیر محل پر کافر بنا دیتا ہے میں پہلے کہہ چکا ہوں کوئی خُلق بُرا نہیں بلکہ بد استعمالی سے بُرے ہوجاتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپ بڑے غصہ ور تھے۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔اسلام ہر ایک قوت کو اپنے محل پر استعمال کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔