ملفوظات (جلد 8) — Page 188
کے تکلّفات کو چھوڑتا ہے۔۱ اور پھر فرمایا قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا (الشّمس:۱۱) مٹی کے برابر ہوگیا وہ شخص جس نے نفس کو آلودہ <mark>کر</mark> لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن <mark>کر</mark>یم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قویٰ بشریہ کے بُرے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خدا نہیں ملتا۔دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک <mark>کر</mark>و ورنہ ؎ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ایں خیال است و محال است و جنوں ریا انسان کی فطرت میں در اصل بدی نہ تھی اور نہ کوئی چیز بُری ہے لیکن بد استعمالی بُری بنا دیتی ہے۔مثلاً ریا ہی کو لو یہ بھی در اصل بُری نہیں کیونکہ اگر کوئی کام محض خدا تعالیٰ کے لیے <mark>کر</mark>تا ہے اور اس لیے <mark>کر</mark>تا ہے کہ اس نیکی کی تحریک دوسروں کو بھی ہو تو یہ ریا بھی نیکی ہے۔ریا کی دو قسمیں ہیں۔ایک دنیا کے لیے مثلاً کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے کوئی بڑا آدمی آگیا اس کے خیال اور لحاظ سے نماز کو لنبا <mark>کر</mark>نا شروع <mark>کر</mark> دیا۔ایسے موقع پر بعض آدمیوں پر ایسا رعب پڑ جاتا ہے کہ وہ پھول پھول جاتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم ریا کی ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی مگر اپنے وقت پر جیسے بھوک کے وقت روٹی کھاتا ہے یا پیاس کے وقت پانی پیتا ہے۔مگر برخلاف اس کے جو شخص محض اللہ تعالیٰ کے لیے نماز کو سنوار سنوار <mark>کر</mark> پڑھتا ہے وہ ریا میں داخل نہیں۔بلکہ رضاءِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔غرض ریا کے بھی محل ہوتے ہیں۔اور انسان ایسا جانور ہے کہ بے محل عیوب پر نظر نہیں <mark>کر</mark>تا۔مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو بڑا عفیف اور پارسا سمجھتا ہے راستہ میں اکیلا جا رہا ہے۔راستہ میں وہ ایک تھیلی جواہرات کی پڑی پاتا ہے وہ اسے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ مداخلت کی کوئی بات نہیں۔کوئی دیکھتا نہیں اگر یہ اس وقت اس پر گرتا نہیں اور سمجھتا ہے کہ غیر کاحق ہوگا اور روپیہ جو گرا ۱ بدر سے۔’’ جس نے دین کو مقدم کیا وہ خدا کے ساتھ مل گیا۔نفس کو خاک کے ساتھ ملا دینا چاہیے۔خدا کو ہر بات میں مقدم <mark>کر</mark>نا چاہیے۔یہی دین کا خلاصہ ہے جتنے بُرے طریق ہیں ان سب کو ترک <mark>کر</mark> دینا چاہیے۔تب خدا ملتا ہے۔‘‘ ۱ بدر سے۔’’ جس نے دین کو مقدم کیا وہ خدا کے ساتھ مل گیا۔نفس کو خاک کے ساتھ ملا دینا چاہیے۔خدا کو ہر بات میں مقدم <mark>کر</mark>نا چاہیے۔یہی دین کا خلاصہ ہے جتنے بُرے طریق ہیں ان سب کو ترک <mark>کر</mark> دینا چاہیے۔تب خدا ملتا ہے۔‘‘ ۱ بدر سے۔’’ جس نے دین کو مقدم کیا وہ خدا کے ساتھ مل گیا۔نفس کو خاک کے ساتھ ملا دینا چاہیے۔خدا کو ہر بات میں مقدم <mark>کر</mark>نا چاہیے۔یہی دین کا خلاصہ ہے جتنے بُرے طریق ہیں ان سب کو ترک <mark>کر</mark> دینا چاہیے۔تب خدا ملتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ءصفحہ ۳)