ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 187

برسوں انتظار <mark>کر</mark>تے ہیں۔کسان بیج بو <mark>کر</mark> کتنے عرصہ تک منتظر رہتا ہے لیکن دین کے کاموں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ <mark>پھونک</mark> <mark>مار</mark> <mark>کر</mark> <mark>ولی</mark> بنا دو اور پہلے ہی دن چاہتے ہیں کہ عرش پر پہنچ جاویں۔حالانکہ نہ اس راہ میں کوئی محنت اور مشقت اٹھائی اور نہ کسی ابتلا کے نیچے آیا۔دین کے کاموں میں صبر اور محنت کی ضرورت خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اور آئین نہیں ہے۔یہاں ہر ترقی تدریجی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ نری اتنی باتوں سے خوش نہیں ہو سکتا کہ ہم کہہ دیں ہم مسلمان ہیں یا مومن ہیں۔چنانچہ اس نے فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا یہ لوگ گمان <mark>کر</mark> بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اتنے ہی کہنے پر راضی ہو جاوے اور یہ لوگ چھوڑ دیئے جاویں کہ وہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہو۔یہ <mark>امر</mark> سنّت اللہ کے خلاف ہے کہ <mark>پھونک</mark> <mark>مار</mark> <mark>کر</mark> <mark>ولی</mark> بنا دیا جاوے۔اگر یہی سنت ہوتی تو پھر آنحضرت <mark>صلی</mark> اللہ علیہ وسلم ایسا ہی <mark>کر</mark>تے اور اپنے جان نثار صحابہؓ کو <mark>پھونک</mark> <mark>مار</mark> <mark>کر</mark> ہی <mark>ولی</mark> بنا دیتے۔ان کو امتحان میں ڈلوا <mark>کر</mark> ان کے سر نہ کٹواتے اور خدا تعالیٰ ان کی نسبت یہ نہ فرماتا مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا(الاحزاب:۲۴)۔پس جب دنیا بغیر مشکلات اور محنت کے ہاتھ نہیں آتی تو عجب بے وقوف ہے وہ انسان جو دین کو حلوائے بے دُود سمجھتا ہے۔یہ تو سچ ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔باایں اسلام نے تو ایسی مشقت بھی نہیں رکھی۔ہندوؤں میں دیکھو کہ ان کے جوگیوں اور سنیاسیوں کو کیا کیا <mark>کر</mark>نا پڑتا ہے۔کہیں ان کی کمریں <mark>مار</mark>ی جاتی ہیں۔کوئی ناخن بڑھاتا ہے۔ایسا ہی عیسائیوں میں رہبانیت تھی۔اسلام نے ان باتوں کو نہیں رکھا بلکہ اس نے یہ تعلیم دی قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس:۱۰) یعنی نجات پاگیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا۔یعنی جس نے ہر ایک قسم کی بدعت، فسق و فجور، نفسانی جذبات سے خدا تعالیٰ کےلیے الگ <mark>کر</mark> لیا اور ہر قسم کے نفسانی لذات کو چھوڑ <mark>کر</mark> خدا کی راہ میں تکالیف کو مقدم <mark>کر</mark> لیا ایسا شخص فی الحقیقت نجات یافتہ ہے جو خدا تعالیٰ کو مقدم <mark>کر</mark>تا ہے اور دنیا اور اس