ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 185

دے گا۔پس ایسی نیکی جس میں گند ملا ہوا ہو کسی کام کی نہیں خدا تعالیٰ کے حضور اس کی کچھ قدر نہیں لیکن یہ لوگ اس پر ناز کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ نجات چاہتے ہیں۔اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے اگر اخلاص ہو تو اللہ تعالیٰ تو ایک ذرہ بھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔اس نے تو خود فرمایا ہے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ(الزلزال:۸) اس لیے اگر ذرہ بھر بھی نیکی ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا اَجر پائے گا۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر نیکی کر کے پھل نہیں ملتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں اخلاص نہیں آیا ہے۔اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے جیسا کہ فرمایا مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ(البیّنۃ:۶) یہ اخلاص ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابدال ہیں۔۱ یہ لوگ ابدال ہوجاتے ہیں اور وہ اس دنیا کے نہیں رہتے۔ان کے ہر کام میں ایک خلوص اور اہلیت ہوتی ہے لیکن دنیا داروں کا تو یہ حال ہے کہ وہ خیرات بھی کرتے ہیں تو اس کے لیے تعریف اور تحسین چاہتے ہیں۔اگر کسی نیک کام میں کوئی چندہ دیتا ہے تو غرض یہ ہے کہ اخبارات میں اس کی تعریف ہو۔لوگ تعریف کریں۔اس نیکی کو خدا تعالیٰ سے کیا تعلق؟ بہت لوگ شادیاں کرتے ہیں۔اس وقت سارے گاؤں میں روٹی دیتے ہیں مگر خدا کے لیے نہیں صرف نمائش اور تعریف کے لیے۔اگر ریا نہ ہوتی اور محض شفقت علیٰ خلق اللہ کے لحاظ سے یہ فعل ہوتا اور خالص خدا کے لیے تو ولی ہوجاتے لیکن چونکہ ان کاموں کو خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق اور غرض نہیں ہوتا اس لیے کوئی نیک اور بابرکت اثر ان میں پیدا نہیں ہوتا۔یہ خوب یاد رکھوکہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے ہوجاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے اور خدا کسی کے دھوکے میں نہیں آتا۔اگر کوئی یہ چاہے کہ ریاکاری اور فریب سے خدا کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔وہ خود ہی دھوکہ کھا رہا ہے۔دنیا کے زیب، دنیا کی محبت ساری خطا کاریوں کی جڑ ہے۔اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ءصفحہ ۴،۵