ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 184

میرے ایک استاد گل علی شاہ بٹالے کے رہنے والے تھے۔وہ شیر سنگھ کے بیٹے پرتاپ سنگھ کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شیر سنگھ نے اپنے باورچی کو محض نمک مرچ کی زیادتی پر بہت مارا تو چونکہ وہ بڑے سادہ مزاج تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے بڑا ظلم کیا۔اس پر شیر سنگھ نے کہا مولوی جی کو خبر نہیں۔اس نے میرا سو بکرا کھایا ہے اسی طرح پر انسان کی بدکاریوں کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ کسی ایک موقع پر پکڑا جا کر سزا پاتا ہے۔۱ جوشخص سچائی اختیار کرے گا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ذلیل ہو اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حفاظت جیسا اور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں۔لیکن ادھوری بات فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب پیاس لگی ہوئی ہو تو صرف ایک قطرہ پی لینا کفایت کرے گا یا شدت بھوک کے وقت ایک دانہ یا ایک لقمہ سے سیر ہوجاوے گا۔بالکل نہیں۔بلکہ جب تک پورا سیر ہو کر پانی نہ پئے یا کھانا نہ کھائے تسلی نہ ہوگی۔اسی طرح پر جب تک اعمال میں کمال نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں۔ناقص اعمال اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے اورنہ وہ بابرکت ہوسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ میری مرضی کے موافق اعمال کرو پھر میں برکت دوں۔غرض یہ باتیں دنیا دار خود ہی بنا لیتےہیں کہ جھوٹھ اور فریب کے بغیر گذارہ نہیں، کوئی کہتا ہے فلاں شخص مقدمہ میں سچ بولا تھا اس لیے چار برس کو دھرایا گیا۔میں پھر کہوں گا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جو عدم معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔ع کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی یہ نقص کے نتیجے ہیں۔کمال ایسے ثمرات پیدا نہیں کرتا۔ایک شخص اگر اپنی موٹی سی کھدر کی چادر میں کوئی توپا بھرے تو اس سے وہ درزی نہیں بن جاوے گا۔اور یہ لازم نہ آئے گا کہ اعلیٰ درجہ کے ریشمی کپڑے بھی وہ سی لے گا۔اگر اس کو ایسے کپڑے دیئے جاویں تو نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ انہیں برباد کر ۱ بدر میں ہے۔’’ایسا ہی انسان گناہ کسی اور موقعہ پر کرتا ہے اور پکڑا کسی اور موقعہ پر جاتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ءصفحہ ۳)