ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 183

میں کیونکر کہوں کہ جھوٹ کے بغیر گذارہ نہیں۔ایسی باتیں نری بیہودگیاں ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سچ کے بغیر گذارہ نہیں۔میں اب تک بھی جب اپنے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پہلو کو اختیار کیا اس نے ہماری رعایت رکھی۔اور ایسی رعایت رکھی جو بطور ایک نشان کے ہوگئی۔مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ (الطلاق:۴) یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتا رہوجاتے ہیں مگر میں کیونکر اس کو باور کروں مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزا دے؟ اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرأت نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی وہ سزا ان کی بعض اور مخفی در مخفی بد کاریوں کی ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پا لیتے ہیں۔(بقیہ حاشیہ) نہیں سمجھا اور نہ اس میں کوئی نج کی بات تھی۔اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاکخانہ جات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا۔مگر اس قدرمیں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد زبانِ انگریزی میں وہ حاکم نو نو کر کے اس کی سب باتوں کو رد کر دیتا تھا۔انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنے تمام وجوہ پیش کرچکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا آپ کے لیے رخصت۔یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجا لایا جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔میں نے اس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کے لیے ہاتھ مارا میں نے کہا کیا کرنے لگا ہے؟ تب اس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا کہ خیر ہے خیر ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲؍فروری ۱۹۰۶ءصفحہ ۳)