ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 172

مسلمانوں کی حالت بہت ہی نازک ہوگئی ہے۔انہوں نے قرآن کریم پر تدبّر چھوڑ دیا اور ان کی عملی حالت خراب ہوگئی۔اگر ان کی عملی حالت درست ہوتی اور وہ قرآن کریم اور اس کے لغات پر توجہ کرتے تو ایسے معنے ہرگز نہ کرتے۔انہوں نے اسی لیے اپنی طرف سے یہ معنے کر لئے۔توفّی کا لفظ کوئی نرالا اور نیا لفظ نہ تھا اس کے معنے تمام لغت عرب میں خواہ وہ کسی نے لکھی ہوں موت کے کئے ہیں۔پھر انہوں نے مع جسم آسمان پر اٹھانے کے معنے آپ ہی کیوں بنا لیے۔ہم کو افسوس نہ ہوتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اس لفظ کے یہی معنے کر لیتے کیونکہ یہی لفظ آپ کے لیے بھی تو قرآن شریف میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ (یونس:۴۷) اب بتاؤ کہ اگر اس لفظ کے معنے مع جسم آسمان پر اٹھانا ہی ہیں تو کیا ہمارا حق نہیں کہ آپؐکے لیے بھی یہی معنے کریں۔کیا وجہ ہے کہ وہ نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزارہا درجہ کمتر ہے اس کے لیے جب یہ لفظ بولا جاوے تو اس کے من گھڑت معنے کر کے زندہ آسمان پر لے جاویں۔لیکن جب سیدالاولین و الآخرین کے لیے یہ لفظ آوے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہ کریں۔حالانکہ آپ کی زندگی ایسی ثابت ہے کہ کسی اور نبی کی ثابت نہیں۔حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت اور اس لیے ہم زور اور دعویٰ سے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی نبی زندہ ہے تو وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اکثر اکابر نے حیات النبی پر کتابیں لکھی ہیں۔اور ہمارے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایسے زبردست ثبوت موجود ہیں کہ کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔منجملہ ان کے ایک یہ بات ہے کہ زندہ نبی وہی ہو سکتا ہے جس کے برکات اور فیوض ہمیشہ کے لیے جاری ہوں اور یہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک کبھی بھی مسلمانوں کو ضائع نہیں کیا۔ہر صدی کے سر پر اس نے کوئی آدمی بھیج دیا جو زمانہ کے مناسب ِحال اصلاح کرتا رہا یہاں تک اس صدی پر اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں حیات النبی کا ثبوت دوں۔یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کرتا