ملفوظات (جلد 8) — Page 8
خوب ادا کرتا ہے۔چالیس کوس روز پیدل چلنا پڑے تو بھی عذر نہیں کرتا۔رات کو چلنا ہو یا دن کو چلنا ہو۔ایّام مقدمہ میں ہمارے یکہ کے ساتھ برابر پیادہ دوڑ کر گورداسپور اور قادیان آتا جاتا رہا۔محنت اور دیانت سے کام کرنے والا آدمی ہے۔جس کے پاس ہوگا وہ مطمئن رہے گا۔کیونکہ دانستہ غفلت کرنے والا آدمی نہیں۔سنت صحابہ کا ایک جزو اس میں ہے۔(قبل عصر) سچے مذہب کی شناخت گجرات کے مشن اسکول کے ہیڈ ماسٹر ڈی نیل صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔چند تحریری سوال پیش کئے جن کے جوابات تحریری دیئے جائیں گے۔مختلف مذاہب کا تذکرہ تھا حضور مسیح علیہ السلام نے فرمایا۔آج کل مذاہب کی عجیب حالت ہے۔گھر گھر ایک نیا مذہب بن رہا ہے اور تلاش کرنے والے کے واسطے ایک حیرت کا مقام ہو رہا ہے اور اس وقت طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعی انسان کو نجات دینے والا سچا مذہب کون سا ہے؟ اس کا جواب ہر ایک شخص اپنے اپنے رنگ میں دے گا۔لیکن اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ ہر ایک مذہب میں یہ دیکھنا چاہیے کہ خدا کے ساتھ اس کے معاملات کیسے ہیں۔اس کی عظمت جبروت اور خوف کس قدر دل پر غالب ہے۔انسان شر سے طبعاً نفرت کرتا ہے اور جس چیز کے فوائد اور منافع مرکوزِ خاطر ہو جائیں اس سے طبعاً محبت کرتا ہے۔مثلاً ایک جگہ انسان کو رات رہنا ہو اور اس جگہ سانپ ہو تو گوارا نہ کرے گا کہ وہاں رہے۔یا کسی گاؤں میں طاعون ہو تو طبعاً اس بات سے نفرت کرے گا کہ اس میں داخل ہو۔فائدہ مند چیز کی طرف رغبت کرتا ہے۔بری چیز سے نفرت رکھتا ہے۔پس جس شخص کے دل میں خدا کی واقعی عظمت ہو جاوے اور اس کو منافع دینے والا یقین کرلے اور اس کے احکام کی خلاف ورزی میں اپنی ہلاکت پر پورا ایمان قائم کر لے تو پھر باوجود اس نظارہ کے وہ کس طرح خدا کی خلاف مرضی کر سکے گا۔انسان کو چلتے چلتے سونے کا خزانہ نظر آجائے تو ضرور اس کو لینے کی سعی کرتا ہے۔پس اصل بات