ملفوظات (جلد 8) — Page 7
قائم مقام کر دیتا ہے۔قادر اور بے نیاز ہے۔پہلے اس سے ایک یہ بھی الہام ہوا تھا جبکہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم زندہ تھے کہ دو شہتیر ٹوٹ گئے۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ یہ الہام بھی خوفناک ہے خدا تعالیٰ اس کے معنے بہتر جانتا ہے۔۱ ۱۳؍اکتوبر۱۹۰۵ء زندگی بے اعتبار ہے فرمایا۔ان لوگوں پر مجھے تعجب آتا ہے جو زندگی پر اعتبار کرتے ہیں۔بعض دفعہ انسان پر آنی موت وارد ہوتی ہے۔ایک شخص بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا انہوں نے اس کی نبض دیکھ کر کہا کہ فوراً گھر چلے جاؤ اور پاس والوںکو کہا کہ اگر کسی نے مردہ چلتا ہوا دیکھنا ہو تو اس کو دیکھ لے۔وہ گھر پہنچ کر فوراً مر گیا۔ایسا ہی خلیفہ محمد حسین پٹیالہ والے کچہری سے گھر جا کر ایک زینہ پر گرے، اُٹھے اور دوسرے پر گرے اور جان نکل گئی۔صدقہ اگرچہ قلیل ہو مگر اس پر دوام ہو ایک مختصر سے چندہ کی ضرورت تھی۔فرمایا۔بعض لوگ ایک بات منہ سے نکالتے ہیں اور پھر اس پر قائم نہیں رہ سکتے اور گناہ گار ہوتے ہیں۔صدقہ عمدہ وہ ہے جو اگرچہ قلیل ہو مگر اس پر دوام ہو۔مولوی یار محمد صاحب کا اخلاص مولوی صاحب۲ مرحوم کی علالت طبع کے ایام میں بعض کی خدمت گذاری کے ذکر میں مولوی یار محمد صاحب بی۔او۔ایل کی خدمت گذاری کا ذکر آیا۔فرمایا۔بہت ہی مخلص یک رنگ آدمی ہے۔کئی دفعہ بہت تکلیف کا سفر برداشت کیا۔بدنی خدمت قائم مقام کر دیتا ہے۔قادر اور بے نیاز ہے۔پہلے اس سے ایک یہ بھی الہام ہوا تھا جبکہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم زندہ تھے کہ دو شہتیر ٹوٹ گئے۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ یہ الہام بھی خوفناک ہے خدا تعالیٰ اس کے معنے بہتر جانتا ہے۔۱ ۱۳؍اکتوبر۱۹۰۵ء زندگی بے اعتبار ہے فرمایا۔ان لوگوں پر مجھے تعجب آتا ہے جو زندگی پر اعتبار کرتے ہیں۔بعض دفعہ انسان پر آنی موت وارد ہوتی ہے۔ایک شخص بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا انہوں نے اس کی نبض دیکھ کر کہا کہ فوراً گھر چلے جاؤ اور پاس والوںکو کہا کہ اگر کسی نے مردہ چلتا ہوا دیکھنا ہو تو اس کو دیکھ لے۔وہ گھر پہنچ کر فوراً مر گیا۔ایسا ہی خلیفہ محمد حسین پٹیالہ والے کچہری سے گھر جا کر ایک زینہ پر گرے، اُٹھے اور دوسرے پر گرے اور جان نکل گئی۔صدقہ اگرچہ قلیل ہو مگر اس پر دوام ہو ایک مختصر سے چندہ کی ضرورت تھی۔فرمایا۔بعض لوگ ایک بات منہ سے نکالتے ہیں اور پھر اس پر قائم نہیں رہ سکتے اور گناہ گار ہوتے ہیں۔صدقہ عمدہ وہ ہے جو اگرچہ قلیل ہو مگر اس پر دوام ہو۔مولوی یار محمد صاحب کا اخلاص مولوی صاحب۲ مرحوم کی علالت طبع کے ایام میں بعض کی خدمت گذاری کے ذکر میں مولوی یار محمد صاحب بی۔او۔ایل کی خدمت گذاری کا ذکر آیا۔فرمایا۔بہت ہی مخلص یک رنگ آدمی ہے۔کئی دفعہ بہت تکلیف کا سفر برداشت کیا۔بدنی خدمت قائم مقام کر دیتا ہے۔قادر اور بے نیاز ہے۔پہلے اس سے ایک یہ بھی الہام ہوا تھا جبکہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم زندہ تھے کہ دو شہتیر ٹوٹ گئے۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ یہ الہام بھی خوفناک ہے خدا تعالیٰ اس کے معنے بہتر جانتا ہے۔۱ ۱۳؍اکتوبر۱۹۰۵ء زندگی بے اعتبار ہے فرمایا۔ان لوگوں پر مجھے تعجب آتا ہے جو زندگی پر اعتبار کرتے ہیں۔بعض دفعہ انسان پر آنی موت وارد ہوتی ہے۔ایک شخص بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا انہوں نے اس کی نبض دیکھ کر کہا کہ فوراً گھر چلے جاؤ اور پاس والوںکو کہا کہ اگر کسی نے مردہ چلتا ہوا دیکھنا ہو تو اس کو دیکھ لے۔وہ گھر پہنچ کر فوراً مر گیا۔ایسا ہی خلیفہ محمد حسین پٹیالہ والے کچہری سے گھر جا کر ایک زینہ پر گرے، اُٹھے اور دوسرے پر گرے اور جان نکل گئی۔صدقہ اگرچہ قلیل ہو مگر اس پر دوام ہو ایک مختصر سے چندہ کی ضرورت تھی۔فرمایا۔بعض لوگ ایک بات منہ سے نکالتے ہیں اور پھر اس پر قائم نہیں رہ سکتے اور گناہ گار ہوتے ہیں۔صدقہ عمدہ وہ ہے جو اگرچہ قلیل ہو مگر اس پر دوام ہو۔مولوی یار محمد صاحب کا اخلاص مولوی صاحب۲ مرحوم کی علالت طبع کے ایام میں بعض کی خدمت گذاری کے ذکر میں مولوی یار محمد صاحب بی۔او۔ایل کی خدمت گذاری کا ذکر آیا۔فرمایا۔بہت ہی مخلص یک رنگ آدمی ہے۔کئی دفعہ بہت تکلیف کا سفر برداشت کیا۔بدنی خدمت ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ ۲ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔(مرتّب)