ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 169

مگر نہیں ہوا اور یہ غلطی چلی آئی اور ہمارا زمانہ آگیا۔اس وقت بھی اگر نری اتنی ہی بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک سلسلہ پیدا نہ کرتا کیونکہ وفات مسیح ایسی بات تو تھی ہی نہیں جو پہلے کسی نے تسلیم نہ کی ہو۔پہلے سے بھی اکثر خواص جن پر اللہ تعالیٰ نے کھول دیا یہی مانتے چلے آئے مگر بات کچھ اور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا۔یہ سچ ہے کہ مسیح کی وفات۱ کی غلطی کو دور کرنا بھی اس سلسلہ کی بہت بڑی غرض تھی۔لیکن صرف اتنی ہی بات کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھ کو کھڑا نہیں کیا بلکہ بہت سی باتیں ایسی پیدا ہوچکی تھیں اگر ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ ایک سلسلہ قائم کر کے کسی کو مامور نہ کرتا تو دنیا تباہ ہوجاتی اور اسلام کا نام و نشان مٹ جاتا۔اس لیے اسی مقصد کو دوسرے پیرایہ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری بعثت کی غرض کیا ہے؟ حیاتِ مسیح کا فتنہ وفاتِ عیسیٰ اور حیاتِ اسلام یہ دونوں مقاصد باہم بہت بڑا تعلق رکھتے ہیں اور وفاتِ مسیح کا مسئلہ اس زمانہ میں حیاتِ اسلام کے لیے ضروری ہوگیا ہے۔اس لیے کہ حیاتِ مسیح سے جو فتنہ پیدا ہوا ہے وہ بہت بڑھ گیا ہے۔حیاتِ مسیح کے لیے یہ کہنا کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھالے جاتا؟ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی۲ سے ناواقفی کو ظاہر کرتا ہے۔ہم تو سب سے زیادہ اس بات پر ایمان لاتے اور یقین کرتے ہیں اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرۃ:۲۱)۔اللہ تعالیٰ بےشک ہر بات پر قادر ہے اور ہم ایمان رکھتےہیںکہ بیشک وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ہے۔لیکن وہ ایسے امور سے پاک اور منزہ ہے جو اس کی صفاتِ کاملہ کے خلاف ہوں اور وہ ان باتوں کا دشمن ہے جو اس کے دین کے مخالف ہوں۔حضرت عیسیٰ کی حیات اوائل میں تو صرف ایک غلطی کا رنگ رکھتی تھی مگر آج یہ غلطی ایک اژدھا بن گئی ہے جو اسلام کو نگلنا چاہتی ہے۔ابتدائی زمانہ میں اس غلطی سے کسی گزند کا اندیشہ نہ تھا اور وہ غلطی ہی کے رنگ میں تھی۔مگر جب سے عیسائیت کا خروج ہوا اور انہوں نے مسیح کی زندگی کو ان کی خدائی کی ایک بڑی زبردست دلیل قرار دیا تو یہ ۱سہو کتابت ہے ’’مسیح کی حیات کی غلطی ‘‘ ہونا چاہیے۔(مرتّب) ۲ اس جگہ کتابت کی غلطی سے کوئی لفظ رہ گیا ہے۔(مرتّب)