ملفوظات (جلد 8) — Page 164
بڑا مرحلہ طے ہو جاوے گا۔یہ بھی یاد رہے کہ بیان کرنے والے تقسیم اوقات کے ساتھ بیان کریں اور پھر وہ ان بچوں سے امتحان لیں۔غرض میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ تم نے سن لیا ہے اور میری اصل غرض اورمنشا کو تم نے سمجھ لیا ہے۔اس کے پورا کرنے کے لیے جو جو تجاویز اور پھر ان تجاویز پر جو اعتراض ہوتے ہیں وہ بھی تم نے بیان کر دیئے ہیں اور میں سن چکا ہوں۔میں مدرسہ کی موجودہ صورت کو بھی پسند کرتا ہوں۔اس سے نیک طبع بچے کچھ نہ کچھ اثر ضرور لے جاتے ہیں۔اس لیے یہ نہیں چاہیے کہ مَا لَا یُدْرَکُ کُلُّہٗ لَا یُتْرَکُ کُلُّہٗ۔تجربہ کے طور پر سر دست ایک سال کے لیے ہی ایسا انتظام کر کے دیکھو کہ ہفتہ وار جلسوں کے ذریعہ ان کو دینی ضروریات سے آگاہ کیا جاوے۔ہاں عربی زبان کےلیے معقول انتظام ہوناچاہیے۔اگر اس کےلیے کچھ نہ ہوا تو پھر ’’ہماں اش در کاسہ‘‘ والی بات ہوگی۔گویا زبانی تو سب کچھ ہوا مگر عملی اور حقیقی طور پر کچھ بھی نہ ہوا۔اس بات کو بھی زیر نظر رکھ لو کہ اگر ان بچوں پر اور بوجھ ڈالا گیا تو وہ پاس ہونے کے خیالات میں دو طرفہ محنت نہیں کر سکیں گے۔ایک ہی طرف کوشش کریں گے۔اور اگر علیحدہ تعلیم ہوگی تو اس کے لیے وقت وہی ہے وہ بڑھ نہیں سکتا۔اس لیے ایک تو وہی صورت ہو سکتی ہے جو زبانی تعلیم کی میں نے بتائی ہے۔اور ایک اور یہ صورت ہے کہ وہ بچے جو پاس اور فیل کی پروا نہ رکھیں بلکہ ان کی غرض خدمتِ دین کے لیے طیار ہونا ہو اور محض دین کے لیے تعلیم حاصل کریں ایسے بچوں کے لیے خاص انتظام کر دیا جاوے مگر ان کےلیے بھی یہ ضروری امر ہے کہ علومِ جدید سے انہیں واقفیت ہو۔ایسا نہ ہو کہ اگر علومِ جدیدہ کے موافق کسی نے اعتراض کر دیا تو وہ خاموش ہو جاویں اور کہہ دیں کہ ہمیں تو کچھ معلوم نہیں۔اس لیے موجودہ علوم سے انہیں کچھ نہ کچھ واقفیت ضروری ہے تاکہ وہ کسی کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اور ان کی تقریر کا اثر زائل نہ ہو جاوے محض اس وجہ سے کہ وہ بے خبر ہیں۔ہاں ایک جماعت یہ ہو کہ وہ دونوں علوم حاصل کر سکیں اور بجائے خود انہیں وقت کی پروا نہ ہو۔پھر اس پر مشکل یہ ہوگی کہ اوستاد متعدد اور مقرر بنیں۔غرض ہر پہلو کو سوچ کر یہ انتظام کرنے کی بات