ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 160

گے وہ ان مراتب اور مدارج کو نہ پائیں گے جو اس وقت والوں کو ملیں گے۔خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا کہ وہ اس جماعت کو بڑھائے اور وہ اسلام اور توحید کی اشاعت کا باعث بنے۔خادمِ دین واقفینِ زندگی کی ضرورت مدرسہ کی سلسلہ جنبانی کی بھی اگر کوئی غرض ہے تو یہی ہے۔اسی لیے میں نے کہا تھا کہ اس کے متعلق غور کیا جاوے کہ یہ مدرسہ اشاعت اسلام کا ایک ذریعہ بنے اور اس سے ایسے عالِم اور زندگی وقف کرنے والے لڑکے نکلیں جو دنیا کی نوکریوں اور مقاصد کو چھوڑ کر خدمت دین کو اختیار کریں۔ایسا ہی اس قبرستان کے ذریعہ بھی اشاعت اسلام کا ایک مستقل انتظام سوچا گیا ہے۔مدرسہ کے متعلق میری روح ابھی فیصلہ نہیں کر سکی کہ کیا راہ اختیار کیا جاوے۔ایک طرف ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جو عربی اور دینیات میں توغل رکھتے ہوں۔اور دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو آجکل کے طرزِ مناظرات میں پکے ہوں۔علومِ جدیدہ سے بھی واقف ہوں کسی مجلس میں کوئی سوال پیش آجاوے تو جواب دے سکیں۔اور کبھی ضرورت کے وقت عیسائیوں سے یا کسی اور مذہب والوں سے انہیں اسلام کی طرف سے مناظرہ کرنا پڑے تو ہتک کا باعث نہ ہوں بلکہ وہ اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو پُر زور اور پُر شوکت الفاظ میں ظاہر کر سکیں۔میرے پاس اکثر ایسے خطوط آئے ہیں جن میں ظاہر کیا گیا تھا کہ آریوں سے گفتگو ہوئی یا عیسائیوں نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہیں دے سکے۔ایسے لوگ اسلام کی ہتک اور بے عزتی کا موجب ہوجاتے ہیں۔اس زمانہ میں اسلام پر ہر رنگ اور ہر قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں۔میں نے ایک مرتبہ اس قسم کے اعتراضوں کا اندازہ کیا تھا تو میں نے دیکھا کہ اسلام پر تین ہزار اعتراض مخالفوں کی طرف سے ہوا ہے۔پس یہ کس قدر ضروری امر ہے کہ ایک جماعت ایسے لوگوں کی ہو جو ان تمام اعتراضات کا بخوبی جواب دے سکے۔آجکل کے مناظروں اور مباحثوں کی حالت اور بھی بُری ہوگئی ہے کہ اصول کو چھوڑ کر فروع میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اس اصل کو کبھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے کہ جب کسی سے گفتگو ہو تو وہ ہمیشہ اصول میں محدود ہو۔لیکن یاوہ گو اس طریق کو پسند نہیں