ملفوظات (جلد 8) — Page 159
ہیں۔لیکن اس مصیبت کے علاوہ بڑی بھاری مصیبت یہ ہے کہ اندرونی غلطیوں نے اسلام کے درخشاں چہرہ پر ایک نہایت ہی تاریک حجاب ڈال دیا ہے۔اور سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ اس میں روحانیت نہیں رہی۔اس سے میری مراد یہ ہے کہ ان لوگوں میں جو مسلمان کہلاتےہیں اور اسلام کے مدعی ہیں روحانیت موجود نہیں ہے اور اس پر دوسری بد قسمتی یہ کہ وہ انکار کر بیٹھے ہیںکہ اب کوئی ہو ہی نہیں سکتا جس سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ ہو اور وہ خدا تعالیٰ پر زندہ اور تازہ یقین پیدا کراسکے۔ایسی حالت اور صورت میں اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ اسلام کے چہرہ پر سے وہ تاریک حجاب ہٹا دے۔اور اس کی روشنی سے دلوں کو منور کرے اور ان بے جا اتہامات اور حملوں سے جو آئے دن مخالف اس پر لگاتے اور کرتے ہیں اسے محفوظ کیا جاوے۔اسی غرض سے یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ مسلمان اپنا نمونہ دکھاویں۔یہی وجہ ہے جو میں نے پسند کیا ہے کہ ایسے لوگ جو اشاعت اسلام کا جوش دل میں رکھتےہیں اور جو اپنے صدق و اخلاص کا نمونہ دکھا کر فوت ہوں اور اس مقبرہ میں دفن ہوں ان کی قبروں پر ایک کتبہ لگا دیا جاوے جس میں اس کے مختصر سوانح ہوں اور اس اخلاص و وفا کا بھی کچھ ذکر ہو جو اس نے اپنی زندگی میں دکھایا تا جو لوگ اس قبرستان میں آویں اور ان کتبوں کو پڑھیں ان پر ایک اثر ہو اور مخالف قوموں پر بھی ایسے صادقوں اور راستبازوں کے نمونے دیکھ کر ایک خاص اثر پیدا ہو۔اگر یہ بھی اسی قدر کرتے ہیں جس قدر مخالف قومیں کر رہی ہیں اور وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے پاس حق اور حقیقت نہیں تو انہوں نے کیا کیا۔پھر انہیں تو ایسی حالت میں شرمندہ ہونا چاہیے۔لعنت ہے ایسے بیعت میں داخل ہونے پر جو کافر جتنی بھی غیرت نہ رکھتا ہو۔اسلام اس وقت یتیم ہوگیا ہے اور کوئی اس کا سر پرست نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو اختیار کیا اور پسند فرمایا کہ وہ اس کی سر پرست ہو اور وہ ہر طرح سے ثابت کرے، دکھائے کہ اسلام کی سچی غمگسار اور ہمدرد ہے۔وہ چاہتا ہے کہ یہی قوم ہوگی جو بعد میں آنے والوں کے لیے نمونہ ٹھیرے گی۔اس کے ثمرات برکات آنے والوں کے لیے ہوں گے اور زمانہ پر محیط ہوجائیں گے۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ جماعت بڑھے گی لیکن وہ لوگ جو بعد میں آئیں