ملفوظات (جلد 8) — Page 158
طیاری بھی یہاں ہی ہوتی ہے۔دین کو دنیا پر مقدم کر کے وصیت کرنے کی تلقین عرصہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہوگا۔گویا اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم و ارادہ میں جنتی ہیں۔پھر اس کے متعلق الہام ہوا اُنْزِلَ فِیْـھَا کُلُّ رَحْـمَۃٍ۔اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی۔اب جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو۔کیا عمدہ موقع ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کر لے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرے۔یہ صدی جس کے ۲۳ سال گذرنے کو ہیں گذر جائے گی اور اس کے آخر تک موجودہ نسل میں سے کوئی نہ رہے گا اور اگر نکما ہو کر رہا تو کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنا صدقہ پہلے بھیجو۔یہ لفظ صدقہ کا صدق سے لیا گیا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی کامل نمونہ اپنے صدق اور اخلاص کا نہیں دکھاتا لاف زنی سے کچھ بن نہیں سکتا۔الوصیۃ اشتہار میں جو میں نے حصہ جائداد کی اشاعت اسلام کے لیے وصیت کرنے کی قید لگائی ہے۔میں نے دیکھا کہ کل بعض نے ۶؍۱ کی کر دی ہے۔یہ صدق ہے جو ان سے کراتا ہے اور جب تک صدق ظاہر نہ ہو کوئی مومن نہیں کہلا سکتا۔تم اس بات کو کبھی مت بھولو کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر جی ہی نہیں سکتے چہ جائیکہ موت سر پر ہو۔طاعون کا موسم پھر آرہا ہے۔زلزلہ کا خوف الگ دامنگیر ہے۔وہ تو بڑا ہی بے وقوف ہے جو اپنے آپ کو امن میں سمجھتا ہے امن میں تو وہی ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا سچا فرمانبردار اور اس کی رضا کا جویاں ہے۔ایسی حالت میں بے بنیاد زندگی کے ساتھ دل لگانا کیا فائدہ؟ سلسلہ کے قیام اور وصیت کی غرض دوسری طرف اسلام سخت اور خطرناک ضعف کی حالت میں ہے۔اس پر یہی آفت اور مصیبت نہیں کہ باہر والے اس پر حملے کر رہے ہیں اگرچہ یہ بالکل سچ ہے کہ مخالف سب کے سب مل کر ایک ہی کمان سے تیر مار رہے ہیں اور جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے وہ اس کے مٹا دینے کی سعی اور فکر کرتے