ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 157

اسلام کی حفاظت اور سچائی کے ظاہر کرنے کے لیے سب سے اوّل تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔اس پہلو میں مالی ضرورتوں اور امداد کی حاجت ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسی ضرورتیں پیش آئی تھیں اور صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ ایسے وقتوں پر بعض ان میں سے اپنا سارا ہی مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتے اور بعض نے آدھا دے دیا اور اسی طرح جہاں تک کسی سے ہو سکتا فرق نہ کرتا۔مجھے افسوس سے ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے ہاتھ میں بجز خشک باتوں کے اور کچھ بھی نہیں رکھتے اور جنہیں نفسانیت اور خود غرضی سے کوئی نجات نہیں ملی اور حقیقی خدا کا چہرہ ان پر ظاہر نہیں ہوا۔وہ اپنے مذاہب کی اشاعت کی خاطر ہزاروں لاکھوں روپیہ دے دیتے ہیں اور بعض اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔عیسائیوں میں دیکھا ہے کہ بعض عورتوں نے دس دس لاکھ کی وصیت کر دی ہے۔پھر مسلمانوں کے لیے کس قدر شرم کی بات ہے کہ وہ اسلام کے لیے کچھ بھی کرنا نہیں چاہتے یا نہیں کرتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے روشن چہرہ پر سے وہ حجاب جو پڑا ہوا ہے دور کر دے اور اسی غرض کے لیے اس نے مجھے بھیجا ہے۔مر کر خدا کے حضور جانا ہے یقیناً یاد رکھو کہ خدا ہے اور مَر کر اس کے حضور ہی جانا ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ سال آئندہ کے انہیں دنوں میں ہم میں سے یہاں کون ہوگا اور کون آگے چلا جائے گا۔جبکہ یہ حالت ہے اور یہ یقینی امر ہے پھرکس قدر بد قسمتی ہوگی۔اگر اپنی زندگی میں قدرت اور طاقت رکھتے ہوئے اس اصل مقصد کے لیے سعی نہ کریں۔اسلام تو ضرور پھیلے گا اور وہ غالب آئے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہے مگر مبارک ہوں گے وہ لوگ جو اس اشاعت میں حصہ لیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے جو اس نے تمہیں موقع دیا ہے۔یہ زندگی جس پر فخر کیا جاتا ہے ہیچ ہے اور ہمیشہ کی خوشی کی وہی زندگی ہے جو مرنے کے بعد عطا ہوگی۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ اسی دنیا اور اسی زندگی سے شروع ہوجاتی ہے اور اس کی