ملفوظات (جلد 8) — Page 153
زیر ہدایت نہیں ہے بلکہ فطرت کا ایک طبعی خاصہ ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہاں مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ عام ہے۔اس سے کوئی خاص شے روپیہ پیسہ یا روٹی کپڑا مراد نہیں ہے بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں۔غرض یہ انفاق عام انفاق ہے اور اس کے لیے مسلمان یا غیر مسلمان کی بھی شرط نہیں اور اس لیے یہ انفاق دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک فطرتی دوسرا زیر اثر نبوت۔فطرتی تو وہی ہے جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ تم میں سے کون ہے اگر کوئی قیدی یا بھوکا آدمی جو کئی روز سے بھوکا ہو یا ننگا ہو آ کر سوال کرے اور تم اسے کچھ نہ کچھ دے نہ دو۔کیونکہ یہ امر فطرت میں داخل ہے۔اور یہ بھی میں نے بتا دیا ہے کہ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ روپیہ پیسہ سے مخصوص نہیں خواہ جسمانی ہو یا علمی سب اس میں داخل ہے۔جو علم سے دیتا ہے وہ بھی اسی کے ماتحت ہے۔مال سے دیتا ہے وہ بھی داخل ہے۔طبیب ہے وہ بھی داخل ہے۔لِلّٰہی وقف کا مقام مگر بموجب منشا هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں قرآن شریف اسے لے جانا چاہتا ہے اور وہ وہ مقام ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی خدا تعالیٰ کے لیے وقف کر دے۔اور یہ لِلّٰہی وقف کہلاتا ہے۔اس حالت اور مقام پر جب ایک شخص پہنچتا ہے تو اس میں مِمَّا رہتا ہی نہیں۔کیونکہ جب تک وہ مِمَّا کی حد کے اندر ہے اس وقت تک وہ ناقص ہے اور اس علّتِ غائی تک نہیں پہنچا جو قرآن مجید کی ہے لیکن کامل اسی وقت ہوتا ہے جب یہ حد نہ رہے اور اس کا وجود اس کا ہر فعل ہر حرکت و سکون محض اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذن کے ماتحت بنی نوع کی بھلائی کے لیے وقف ہو۔دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ کا کمال یہی ہے جو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ کےمنشا کے موافق ہے۔۱ متقی کی چوتھی صفت اس کے بعد ایک اور صفت متقیوں کی بیان کی یعنی وہ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ کے موافق ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی جو کچھ ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۶ءصفحہ ۴،۵