ملفوظات (جلد 8) — Page 152
باتوں پر عمل بھی کرتی ہے۔پھر ویدوں نے آکر دنیا کو کیا بخشا؟ یا تو یہ ثابت کرو کہ جو قومیں وید کو نہیں مانتی ہیں ان میں نیکیاں بالکل مفقود ہیں اور یا کوئی امتیازی نشان بتاؤ۔قرآن شریف کو جہاں سے شروع کیا ہے ان ترقیوں کا وعدہ کر لیا ہے جو بالطبع روح تقاضا کرتی ہے چنانچہ سورۃ فاتحہ میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) کی تعلیم کی اور فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ اے اللہ ہم کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرما۔وہ صراطِ مستقیم جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے انعام و اکرام ہوئے۔اس دعا کے ساتھ ہی سورۃ البقر کی پہلی ہی آیت میں یہ بشارت دے دی ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ گویا روحیں دعا کرتی ہیں اور ساتھ ہی قبولیت اپنا اثر دکھاتی ہے اور وہ وعدہ دعا کی قبولیت کا قرآن مجید کے نزول کی صورت میں پورا ہوتا ہے۔ایک طرف دعا ہے اور دوسری طرف اس کا نتیجہ موجود ہے یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے جو اس نے فرمایا۔مگر افسوس دنیا اس سے بے خبر اور غافل ہے اور اس سے دور رہ کر ہلاک ہو رہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو ابتدائے قرآن مجید میں متقیوں کے صفات بیان فرمائے ہیں ان کو معمولی صفات میں رکھا ہے۔لیکن جب انسان قرآن مجید پر ایمان لا کر اسے اپنی ہدایت کے لیے دستور العمل بناتا ہے تو وہ ہدایت کے ان اعلیٰ مدارج اور مراتب کو پالیتا ہے جو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ میں مقصود رکھے ہیں۔قرآن شریف کی اس علّت غائی کے تصور سے ایسی لذت اور سرور آتا ہے کہ الفاظ میں ہم اس کو بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور قرآن مجید کےکمال کا پتہ لگتا ہے۔متقی کی تیسری علامت پھر متقی کی ایک اور علامت بیان فرمائی وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ یعنی جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔یہ ابتدائی حالت ہوتی ہے اوراس میں سب کے سب شریک ہیں کیونکہ عام طور پر یہ فطرت انسانی کا ایک تقاضا ہے کہ اگر کوئی سائل اس کے پاس آجاوے تو کچھ نہ کچھ اسے ضرور دے دیتا ہے۔گھر میں دس روٹیاں موجود ہوں اور کسی سائل نے آکر صدا کی تو ایک روٹی اس کو بھی دے دے گا۔یہ امر