ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 151

تا میں اس کی تازہ بتازہ نصرتوں کا ثبوت دوں۔چنانچہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جس نے خدا تعالیٰ کے نشانات نہ دیکھے ہوں۔اس کے بالمقابل ہمیں کوئی بتائے کہ وید کیا لایا؟ وہ تو بالکل ادھورا ہے دوسرے لوگوں کو تو خواب بھی آجاتی ہے مگر وید والوں کے نزدیک خواب بھی بے حقیقت چیز ہے اور وہ بھی نہیں آسکتی۔جبکہ وہ دروازہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے لیے یقینی دروازہ ہی بند ہے تو اور وسائل خدا رسی کے کیا ہوسکتے ہیں؟ میں سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک میں نے اس فرقہ کے حالات دیکھے ہیں ان میں شوخیوںکے سوا کچھ نہیں دیکھا یا بعض ایسے لوگ اس میں داخل ہوتے ہیں کہ انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ مذہب کی اصل غرض کیا ہے؟ غرض اسلام ایک ایسا پاک مذہب ہے جو ساری نیکیوں کا حقیقی سر چشمہ اورمنبع ہے اس لیے کہ نیکیوں کی جڑ ہے۔اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور وہ بدوں اس کے پیدا نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات اور نشانات تازہ بتازہ دیکھتا رہے اور یہ بجز اسلام کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔اگر ہے تو کوئی پیش کرے۔علاوہ بریں اسلام کی یہ بھی ایک خوبی ہے کہ بعض فطرتی نیکیاں جو انسان کرتا ہے یہ ان پر ازدیاد کرتا اور انہیں کامل کرتا ہے اس لیے ہی هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ فرمایا ھُدًی لِّلظَّالِمِیْنَ یا لِلْكٰفِرِيْنَ نہیں کہا۔عرصہ کی بات ہے ایک برہمو اگنی ہوتری نے کہا تھا کہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ تو ہم بھی کہتے ہیں تم مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کیوں کہتے ہو؟ ہم نے کہا تھا کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسان دہریہ نہیں ہوتا۔چنانچہ اب وہ کھلا دہریہ ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا ایمان ہوتا تو کیوں دہریہ بنتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف ایسی کامل اور جامع کتاب ہے کہ کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کیا وید میں کوئی ایسی شرتی ہے جو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ کا مقابلہ کرے۔اگر زبانی اقرار کوئی چیز ہے۔یعنی اس کے ثمرات اور نتائج کی حاجت نہیں تو پھرتو ساری دنیا کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کا اقرار کرتی ہے اور بھگتی، عبادت، صدقہ خیرات کو بھی اچھا سمجھتی ہے اور کسی نہ کسی صورت میں ان