ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 6

طرح پر مستقل مزاج ہو کر لگا رہتا ہے تو آخر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے وہ بات پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کے دل میں تڑپ اور بے قراری ہوتی ہے۔یعنی عبادت کےلیے ایک ذوق و شوق اور حلاوت پیدا ہونے لگتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مجاہدہ اور سعی نہ کرے۔اور یہ سمجھے کہ پھونک مار کر کوئی کر دے یہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور سنت نہیں۔اس طریق پر جو شخص اللہ تعالیٰ کو آزماتا ہے وہ خدا سے ہنسی کرتا ہے اور مارا جاتا ہے۔خوب یاد رکھو کہ دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس کا فضل نہ ہو تو دوسرے دن جا کر عیسائی ہو جاوے یا کسی اور بے دینی میں مبتلا ہو جاوے۔اس لیے ہر وقت اس کے فضل کے لیے دعا کرتے رہو اور اس کی استعانت چاہو تاکہ صراط مستقیم پر تمہیں قائم رکھے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے بے نیاز ہوتا ہے وہ شیطان ہوجاتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان استغفار کرتا رہے تاکہ وہ زہر اور جوش پیدا نہ ہو جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔۱ طرح پر مستقل مزاج ہو کر لگا رہتا ہے تو آخر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے وہ بات پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کے دل میں تڑپ اور بے قراری ہوتی ہے۔یعنی عبادت کےلیے ایک ذوق و شوق اور حلاوت پیدا ہونے لگتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مجاہدہ اور سعی نہ کرے۔اور یہ سمجھے کہ پھونک مار کر کوئی کر دے یہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور سنت نہیں۔اس طریق پر جو شخص اللہ تعالیٰ کو آزماتا ہے وہ خدا سے ہنسی کرتا ہے اور مارا جاتا ہے۔خوب یاد رکھو کہ دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس کا فضل نہ ہو تو دوسرے دن جا کر عیسائی ہو جاوے یا کسی اور بے دینی میں مبتلا ہو جاوے۔اس لیے ہر وقت اس کے فضل کے لیے دعا کرتے رہو اور اس کی استعانت چاہو تاکہ صراط مستقیم پر تمہیں قائم رکھے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے بے نیاز ہوتا ہے وہ شیطان ہوجاتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان استغفار کرتا رہے تاکہ وہ زہر اور جوش پیدا نہ ہو جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔۱ ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰