ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 147

ہے۔پھر تیسری حالت میں پہنچ جاتا ہے جس کا نام نفسِ مطمئنّہ ہے۔اس وقت اس کے نفس کے تمام گند دور ہوجاتے ہیں اور ہر قسم کے فساد مٹ جاتے ہیں۔نفسِ مطمئنّہ کی آخری حالت ایسی حالت ہوتی ہے جیسے دو سلطنتوں کے درمیان ایک جنگ ہو کر ایک فتح پالے اور وہ تمام مفسدہ دور کر کے امن قائم کرے اور پہلا سارا نقشہ ہی بدل جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں اس امر کی طرف اشارہ ہے اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً(الـنّمل:۳۵) یعنی جب بادشاہ کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں تو پہلا تانا بانا سب تباہ کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے نمبردار رئیس نواب ہی پہلے پکڑے جاتے ہیں اور بڑے بڑے نامور ذلیل کئے جاتے ہیں اور اس طرح پر ایک تغیر عظیم واقع ہوتا ہے۔یہی ملوک کا خاصہ ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے۔اسی طرح پر جب روحانی سلطنت بدلتی ہے تو پہلی سلطنت پر تباہی آتی ہے۔شیطان کے غلاموں کو قابو کیا جاتا ہے۔وہ جذبات اور شہوات جو انسان کی روحانی سلطنت میںمفسدہ پردازی کرتے ہیں۔ان کوکچل دیا جاتا ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے اور روحانی طور پر ایک نیا سکہ بیٹھ جاتا ہے اور بالکل امن و امان کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔یہی وہ حالت اور درجہ ہے جو نفسِ مطمئنّہ کہلاتا ہے۔اس لیے کہ اس وقت کسی قسم کی کشمکش اور کوئی فساد پایا نہیں جاتا۔بلکہ نفس ایک کامل سکون اور اطمینان کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ جنگ کا خاتمہ ہو کر نئی سلطنت قائم ہوجاتی ہے اور کوئی فساد اور مفسدہ باقی نہیں رہتا۔بلکہ دل پر خدا کی فتح کامل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ خود اس کے عرش دل پر نزول فرماتا ہے۔اسی کو کمال درجہ کی حالت بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى(النحل:۹۱) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے اور پھر اس سے ترقی کرو تو احسان کا حکم دیتا ہے اور پھر اس سے بھی ترقی کرو تو ایتاء ذی القربیٰ کا حکم ہے۔حالتِ عدل عدل کی حالت یہ ہے جو متقی کی حالت نفس امّارہ کی صورت میں ہوتی ہے۔اس حالت کی اصلاح کے لیے عدل کا حکم ہے۔اس میں نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں بھی خواہش کرتا ہے کہ کسی طرح سے اس کو