ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 143

للہ وہ ہوں جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔اور علّتِ مادی ذٰلِكَ الْكِتٰبُ ہے۔یعنی یہ کتاب اس خدا کی طرف سے آئی ہے جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اور علّتِ صوری لَا رَيْبَ فِيْهِ ہے یعنی اس کتاب کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں۔جو بات ہے مستحکم اورجو دعویٰ ہے وہ مدلل اور روشن۔اور علّتِ غائی اس کتاب کی هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ ہے۔یعنی اس کتاب کے نزول کی غرض و غایت یہ ہے کہ متقیوں کو ہدایت کرتی ہے۔متقی کی صفات یہ چاروں علّتیں بیان کرنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے عام صفات بتائے ہیں کہ وہ متقی کون ہوتے ہیں جو ہدایت پاتےہیں الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔یعنی وہ متقی ہوتے ہیں جو خدا پر جو ہنوز پردہ غیب میں ہوتا ہے ایمان لاتے ہیں اور نماز کو کھڑا کرتے ہیں۔اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اور وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو تجھ پر نازل کی ہے اور جو کچھ تجھ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہ صفات متّقی کے بیان فرمائے۔اب یہاں بالطبع ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کی غرض و غایت تو یہ بتائی هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ اور پھر متقیوں کے صفات بھی وہ بیان کئے جو سب کے سب ایک باخدا انسان میں ہوتے ہیں۔یعنی خدا پر ایمان لاتا ہو۔نماز پڑھتا ہو۔صدقہ دیتا ہو۔کتاب اللہ کو مانتا ہو۔قیامت پر یقین رکھتا ہو۔پھر جو شخص پہلے ہی سے ان صفات سے متّصف ہے اور وہ متقی کہلاتا ہے اور ان امور کا پابند ہے تو پھر وہ ہدایت کیا ہوئی جو اس کتاب کے ذریعہ اس نے حاصل کی؟ اس میں وہ امر زائد کیا ہے جس کے لیے یہ کتاب نازل ہوئی ہے؟ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور امر ہے جو اس ہدایت میں رکھا گیا ہے کیونکہ یہ امور جو بطور صفات متقین بیان فرمائے ہیں یہ تو اس ہدایت کے لیے جو اس کتاب کا اصل مقصد اور غرض ہے بطور شرائط ہیں۔ورنہ وہ ہدایت اور چیز ہے اور وہ ایک اعلیٰ امر ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے اور جس کو میں بیان کرتا ہوں۔