ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 142

میں درج کرتا ہوں لیکن سہولت اور اس تفسیر کی ترتیب اَبلغ کےلحاظ سے پہلے وہ حصہ یکجائی طور پر درج کرتا ہوں اور پھر اس کا ترجمہ دیتا ہوں۔زاں بعد تفسیر (ایڈیٹر) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰ الٓمّٓ۰۰ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠۰۰ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۰۰وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰(البقرۃ:۱تا۶) ترجمہ۔میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔یہ کتاب جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے۔متّقیوں کے لیے ہدایت نامہ ہے (متقی کون ہوتے ہیں؟) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو کھڑی کرتے ہیں اور جو کچھ انہیں عطا کیا گیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اورمتّقی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور اس وحی پر بھی جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ سے ہدایت یافتہ ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔تفسیـر الٓمّٓ۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ١ۛۚ فِيْهِ ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠۔میں اللہ جو بہت جاننے والا ہوں یہ کتاب جو شک و شبہ اور ہر عیب و نقص سے پاک ہے متقیوں کی ہدایت کے لیے بھیجی گئی ہے۔قرآن کریم کی عللِ اربعہ ہر شے کی چار علّتیں ہوتی ہیں۔یہاں بھی ان عِللِ اربعہ کو بیان کیا ہے اور وہ عِللِ اربعہ یہ ہوتی ہیں علّتِ فاعلی، علّتِ صوری، علّتِ مادی، علّتِ غائی۔اس مقام پر قرآن شریف کی چار علّتوں کا ذکر کیا۔علّتِ فاعلی تو اس کتاب کی الٓمّٓ ہے۔اور الٓمّٓ کے معنے میرے نزدیک اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ یعنی میں