ملفوظات (جلد 8) — Page 141
اس غرض کے لیے کہ عمدہ عمدہ پھل اور پھول پیدا ہوں عمدہ زمین اور اس کے لیے بارش کی ضرورت ہے جب تک یہ بات نہ ہو کچھ نہیں ہو سکتا۔اب اس نظارہ فطرت کو اللہ تعالیٰ ضرورتِ وحی کے لیے پیش کرتا ہے اور توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو جب مینہ نہ برسے تو قحط کا اندیشہ ہوتا ہے یہاں تک کہ زمینی پانی جو کنوؤں اور چشموں میں ہوتا ہے وہ بھی کم ہونے لگتا ہے۔پھر جبکہ دنیوی اور جسمانی ضرورتوں کے لیے آسمانی پانی کی ضرورت ہے تو کیا روحانی اور ابدی ضرورتوں کے لیے روحانی بارش کی ضرورت نہیں؟ اور وہ وحی الٰہی ہے۔جیسے مینہ کے نہ برسنے سے قحط پڑتا اور کنوئیں اور چشمے خشک ہوجاتے ہیں۔اسی طرح پر اگر انبیاء و رسل دنیا میں نہ آئیں تو فلسفیوں کا وجود بھی نہ ہو کیونکہ قویٰ عقلیہ کا نشو و نما وحی الٰہی ہی سے ہوتا ہے اور زمینی عقلیں اسی سے پرورش پاتی ہیں۔پس اس آیت وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ اور وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (الطارق:۱۲،۱۳) میں وحی الٰہی کی ضرورت پر عقلی اور فطرتی دلائل پیش کئے ہیں۔جو شخص اس امر کو سمجھ لے گا وہ بول اٹھے گا کہ بےشک وحی الٰہی کی ضرورت ہے۔اور یہ وہ طریق ہے جو آدم سے چلا آتا ہے اور ہر شخص نے اپنی استعداد اور فطرت کے موافق اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ہاں جو جاہل اور ناقص تھے یا جن میں تکبّر اور خود سری تھی وہ محروم رہ گئے اور انہوں نے کچھ بھی حصہ نہ لیا۔یہی اصل اور سچی بات ہے اور تم یقیناً یاد رکھو کہ آسمانی بارش کی سخت ضرورت ہے۔اس لیے کہ عملی قوت بجز اس بارش کے پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔تقویٰ کا مدار علم پر ہے غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا تقویٰ بھی تب ہی پورا ہوتا ہے جب علمِ الٰہی اس کے ساتھ ہو اور وہ وہ علم ہے جو کتاب اللہ میں مندرج ہے۔یہ سچی بات ہے کہ کوئی شخص مراتب ترقیات حاصل نہیں کر سکتا جب تک تقویٰ کی باریک راہوں کی پروا نہ کرے اور تقویٰ کا مدار علم پر ہے۔یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مجید کے شروع ہی میں بیان فرمایا ہے۔یہاں حضرت اقدس نے سورہ بقرہ کے پہلے رکوع کے کچھ حصہ کی تفسیر بیان فرمائی جس کو میں ذیل