ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 133

ہے۔اگر دنیا کی اغراض کو مقدم کرتا ہے تو وہ اس اقرار کو توڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ٹھیرتا ہے۔پس اسی غرض سے یہ اشتہار (الوصیۃ) میں نے خدا تعالیٰ کے اذن سے دیا ہے۔سچی بات یہی ہے۔سال دیگر را کہ مے داند حساب۔لیکن جبکہ خدا تعالیٰ کی متواتر وحی نے مجھ پر کھولا کہ وقت قریب ہے اور اجل مقدر کا الہام ہوا تو میں نے اللہ تعالیٰ ہی کے اشارہ سے یہ اشتہار دیا کہ تا آئندہ کے لیے اشاعت دین کا سامان ہو اور تا لوگوں کو معلوم ہو کہ اٰمَنَّا و صَدَّقْنَا کہنے والوں کی عملی حالت کیا ہے۔یقیناً سمجھو کہ جب تک انسان کی عملی حالت درست نہ ہو زبان کچھ چیز نہیں۔یہ نری لاف گزاف ہے۔زبان تک جو ایمان رہتا ہے اور دل میں داخل ہو کر اپنا اثر عملی حالت پر نہیں ڈالتا وہ منافق کا ایمان ہے۔سچا ایمان وہی ہے جو دل میں داخل ہو اور اس کے اعمال کو اپنے اثر سے رنگین کر دے۔سچا ایمان ابو بکر اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا کیونکہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال تو مال جان تک کو دے دیا اور اس کی پروا بھی نہ کی۔جان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہوتی مگر صحابہؓ نے اسے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا۔انہوں نے کبھی اس بات کی پروا بھی نہیں کی کہ بیوی بیوہ ہوجائے گی یا بچے یتیم رہ جائیں گے بلکہ وہ ہمیشہ اسی آرزو میں رہے کہ خدا کی راہ میں ہماری زندگیاں قربان ہوں۔مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش دل پر ہوجاتا ہے اور کیسی بابرکت وہ قوم تھی اور آپ کے قوت قدسیہ کا کیسا قوی اثر تھا کہ اس قوم کو اس مقام تک پہنچا دیا۔غور کر کے دیکھو کہ آپ نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ایک حالت اور وقت ان پر ایسا تھا کہ تمام محرمات ان کے لیے شیرِ مادر کی طرح تھیں۔چوری، شراب خوری، زنا، فسق و فجور سب کچھ تھا۔غرض کون سا گناہ تھا جو ان میں نہ تھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت اور تربیت سے ان پر وہ اثر ہوا اور ان کی حالت میں وہ تبدیلی پیدا ہوئی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شہادت دی اور کہا اَللہُ اَللہُ فِیْ اَصْـحَابِیْ۔گویا وہ بشریت کا چولہ اتار کر مظہر اللہ ہوگئے تھے اور ان کی حالت فرشتوں کی سی ہوگئی تھی جو يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ( الـتحریم:۷) کے مصداق ہیں۔ٹھیک ایسی