ملفوظات (جلد 8) — Page 134
ہی حالت صحابہؓ کی ہوگئی تھی۔ان کے دلی ارادے اور نفسانی جذبات بالکل دور ہوگئے تھے۔ان کا اپنا کچھ رہا ہی نہیں تھا۔نہ کوئی خواہش تھی نہ آرزو بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو۔اور اس لیے وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح ہوگئے۔قرآن شریف ان کی اس حالت کے متعلق فرماتا ہےفَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا( الاحزاب:۲۴) دین کو دنیا پر مقدم کر لو یہ حالت انسان کے اندر پیدا ہو جانا آسان بات نہیں کہ وہ خدا کی راہ میں جان دینے کو آمادہ ہوجاوے۔مگر صحابہؓ کی حالت بتاتی ہے کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کیا۔جب انہیں حکم ہوا کہ اس راہ میں جان دے دو۔پھر وہ دنیا کی طرف نہیں جھکے۔پس یہ ضروری امر ہے کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کر لو۔یاد رکھو! اب جس کا اصول دنیا ہے اور پھر وہ اس جماعت میں شامل ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اس جماعت میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی اس جماعت میں داخل اور شامل ہے جو دنیا سے دست بردار ہے۔یہ کوئی مت خیال کرے کہ میں ایسے خیال سے تباہ ہو جاؤں گا۔یہ خدا شناسی کی راہ سے دور لے جانے والا خیال ہے۔خدا تعالیٰ کبھی اس شخص کو جو محض اسی کا ہوجاتا ہے ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ خود اس کا متکفّل ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کریم ہے جو شخص اس کی راہ میں کچھ کھوتا ہے وہی کچھ پاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کو پیار کرتا ہے اور انہیں کی اولاد بابرکت ہوتی ہے جو خدا کے حکموں کی تعمیل کرتا ہے اور یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ کا سچا فرمانبردار ہو وہ یا اس کی اولاد تباہ و برباد ہو جاوے۔دنیا ان لوگوں ہی کی برباد ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور دنیا پر جھکتے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہر امر کی طناب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس کے بغیر کوئی مقدمہ فتح نہیں ہو سکتا۔کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور کسی قسم کی آسائش اور راحت میسر نہیں آسکتی۔دولت ہو سکتی ہے مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد یہ بیوی یا بچوں کے ضرور کام آئے گی۔ان باتوں پر غور کرو اور اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرو۔غرض مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں جماعت کو دیکھتا ہوں کہ یہ ابھی تھوڑے سے ابتلا کے بھی