ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 132

دن بھلے آتے ہیں تو ایسے موقعوں پر جبکہ اس کو کچھ خرچ کرنا پڑے خوش ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ وہ جوہر صدق و صفا کے جو اب تک چھپے ہوئے تھے ظاہر ہوں گے۔برخلاف اس کے منافق ڈرتا ہے اس لیے کہ وہ جانتا ہے اب اس کا نفاق ظاہر ہوجائے گا۔یہ قبرستان کا امر بھی اسی قسم کا ہے مومن اس سے خوش ہوں گے اور منافقوں کا نفاق ظاہر ہو جائے گا۔میں نے اس امر کو جب تک تواتر سے مجھ پر نہ کھلا پیش نہیں کیا۔اس میں تو کچھ شک ہی نہیں کہ آخر ہم سب مرنے والے ہیں۔اب غور کرو کہ جو لوگ اپنے بعد اموال چھوڑ جاتے ہیں وہ اموال ان کی اولاد کے قبضہ میں آتے ہیں۔مرنے کے بعد انہیں کیا معلوم اولاد کیسی ہو؟ بعض اوقات اولاد ایسی شریر اور فاسق فاجر نکلتی ہے کہ وہ سارا مال شراب خانوں اور زناکاری میں اور ہر قسم کے فسق و فجور میں تباہ کیا جاتا ہے اور اس طرح پر وہ مال بجائے مفید ہونے کے مضرہوتا اور چھوڑنے والے پر عذاب کا موجب ہو جاتا ہے جبکہ یہ حالت ہے تو پھر کیوں تم اپنے اموال کو ایسے موقع پر خرچ نہ کرو جو تمہارے لیے ثواب اورفائدہ کا باعث ہو۔اور وہ یہی صورت ہے کہ تمہارا مال دین کا بھی حصہ ہو۔اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اگر تمہارے مال میں دین کا بھی حصہ ہے تو اس بدی کا تدارک ہوجائے گا جو اس مال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو یعنی جو بدی اولاد کرتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم اس بات کو خوب یاد رکھو کہ جیسا کہ قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور ایسا ہی دوسرے نبیوں نے بھی کہا ہے یہ سچ ہے کہ دولت مند کا بہشت میں داخل ہونا ایسا ہی ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے داخل ہونا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا مال اس کے لیے بہت سی روکوں کا موجب ہو جاتا ہے۔اس لیے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا مال تمہارے واسطے ہلاکت اور ٹھوکر کا باعث نہ ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اسے دین کی اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کرو۔سچا مومن کون ہے؟ یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی مومن اور بیعت میں داخل ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرلےجیسا کہ وہ بیعت کرتے وقت کہتا