ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 131

میرا کہا نہیں مانتے۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ وہ برداشت نہیں کر سکتے۔اگر کوئی ابتلا آجاوے تو موت آجاوے۔جماعت کی ایسی حالت دیکھ کر دل میں درد پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے امر اور وحی سے قبرستان کی تجویز اب جو بار بار اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ تیری اجل کے دن قریب ہیں۔جیسا کہ یہ الہام ہے قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔ایسا ہی اردو زبان میں بھی فرمایا بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔غرض جب خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کر دیا کہ اب تھوڑے دن باقی ہیں تو اسی لیے میں نے وہ تجویز سوچی جو قبرستان کی ہے۔اور یہ تجویز میں نے محض اللہ تعالیٰ کے امر اور وحی سے کی ہے اور اسی کے امر سے اس کی بناء ڈالی گئی ہے کیونکہ اس کے متعلق عرصہ سے مجھے خبر دی گئی تھی۔میں جانتا ہوں کہ یہ تجویز بھی بہت سے لوگوں کے لیے ابتلا کا موجب ہوگی لیکن اس بناء سے غرض یہی ہے کہ تا آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی قوم کا نمونہ ہو جیسے صحابہ کا تھا اور تا لوگ جانیں کہ وہ اسلام اور اس کی اشاعت کے لیے فدا شدہ تھے۔ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت :۳) یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ ابھی امتحان میں نہیں ڈالے گئے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ( اٰلِ عـمران:۹۳) یعنی اس وقت تک تم حقیقی نیکی کو حاصل ہی نہیں کر سکتے جب تک تم اس چیز کو خرچ نہ کرو گے جو تم کو سب سے زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔اب غور کرو جبکہ حقیقی نیکی اور رضائے الٰہی کا حصول ان باتوں کے بغیر ممکن ہی نہیں تو پھر نری لاف گزاف سے کیا ہوسکتا ہے۔صحابہؓ کا یہ حال تھا کہ ان میں سے مثلاً ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وہ قدم اور صدق تھا کہ سارا مال ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔اس کی وجہ کیا تھی؟ یہ کہ خدا تعالیٰ کے لیے زندگی وقف کر چکے تھے اور انہوں نے اپنا کچھ بھی نہ رکھا تھا۔مومن کی بھلائی کے