ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 122

ہے۔انگریزی پڑھنے سے میں نہیں روکتا۔میرا مدعا یہ ہے اور میں نے پہلے بھی سوچا ہے اور جب سوچا ہے میرے دل کو صدمہ پہنچا ہے کہ ایک طرف تو زندگی کا اعتبار نہیں جیسا کہ خدا کی وحی قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ سے ظاہر ہوتا ہے۔دوسرا اس مدرسہ کی بنا سے غرض یہ تھی کہ دینی خدمت کے لیے لوگ تیار ہو جاویں۔یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے پہلے گزر جاتے ہیں دوسرے جانشین ہوں۔اگر دوسرے جانشین نہ ہوں تو قوم کے ہلاک ہونے کی جڑ ہے۔مولوی عبد الکریم اور دوسرے مولوی فوت ہوگئے اور جو فوت ہوئے ہیں ان کا قائم مقام کوئی نہیں۔دوسری طرف ہزار ہا روپیہ جو مدرسہ کے لیے لیا جاتا ہے پھر اس سے فائدہ کیا؟ جب کوئی تیار ہوجاتا ہے تو دنیا کی فکر میں لگ جاتا ہے۔اصل غرض مفقود ہے۔میں جانتا ہوں جب تک تبدیلی نہ ہوگی کچھ نہ ہوگا۔جو اللہ کی جماعت روحانی سپاہیوں کے تیار کرنے والے تھے وہ نہیں رہے دور چلے گئے ہیں۔ہمیں کیا غرض ہے کہ قدم بقدم ان لوگوں کے چلیں جو دنیا کے لیے چلتے ہیں۔۱ ۷؍دسمبر ۱۹۰۵ء وفات کے متعلق الہامات فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہے۔وہی بہتر جانتا ہے۔پانچ چھ روز سے متواتر یہی الہام ہو رہا ہے۔انسان جن چیزوں کی بابت تمنا کرتا ہے ان کی بابت چاہتا ہے کہ معلوم ہوں جن سے کراہت کرتا ہے چاہتا ہے کہ وہ نامعلوم ہوں۔مگر عادت اللہ یہ نہیں کہ وہ انسانی خواہشات کی پیروی کرے۔مجھے پانچ چھ روز سے فجر کے قریب یہ الہام ہوتا ہے قَرُبَ اَجَلُکَ الْـمُقَدَّرُ۔آج اس کے ساتھ یہ بھی تھا۔وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْـحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔انبیاء علیہم السلام کے متعلق سنت اللہ یہی ہے کہ وہ تخم ریزی کر جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق صحابہ کا اجماع غلط نکلا وہ یہی سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب کو فتح کریں گے۔۱الحکم جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخہ ۷؍جنوری ۱۹۰۹ءصفحہ ۱۲، ۱۳