ملفوظات (جلد 8) — Page 120
آجائے اور علوم دینی حاصل کرے۔۱ ۲؍دسمبر ۱۹۰۵ء ایک رؤیا اور ایک الہام رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے وہ کچھ بولتی ہے۔سب فقرات یاد نہیں رہے مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ (ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔اس کے بعد بیداری ہوئی۔یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں پھر الہام ہوا۔اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(ترجمہ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اگر تم مسلمان ہو۔فرمایا کہ مرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔دونوں فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔چونکہ آجکل روپیہ کی ضرورت ہے۔لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پربھی بہت خرچ ہو رہا ہے اس واسطے جماعت کو چاہیے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔پرندوں میں انفاق فی سبیل اللہ کا سبق فرمایا۔مرغی اپنے عمل سے دکھاتی ہے کہ کس طرح انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہیےکیونکہ وہ انسان کی خاطر اپنی ساری جان قربان کرتی ہے اور انسان کے واسطے ذبح کی جاتی ہے۔اسی طرح مرغی نہایت محنت اور مشقت کے ساتھ ہر روز انسان کے کھانے کے واسطے انڈا دیتی ہے۔ایسا ہی ایک پرند کی مہمان نوازی پر ایک حکایت ہے کہ ایک درخت کے نیچے ایک مسافر کو رات آگئی۔جنگل کا ویرانہ اور سردی کا موسم۔درخت کے اوپر ایک پرند کا آشیانہ تھا۔نر اور مادہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ یہ غریب الوطن آج ہمارا مہمان ہے اور سردی زدہ ہے۔اس کے واسطے ہم کیا کریں؟سوچ کر ان میں یہ صلاح قرار پائی کہ ہم اپنا آشیانہ توڑ کر نیچے پھینک دیں اور وہ اس کو جلا کر آگ تاپے۔چنانچہ انہوںنے ایسا کیا پھر انہوں نے کہا کہ یہ بھوکا ہے۔اس کے واسطے کیا ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۸ مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷