ملفوظات (جلد 8) — Page 115
ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس ملک میں رہے تھے وہاں کی زندگی صرف ساڑھے تین سال کی ہی رسالت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ رسالت ۲۳ سال تھا۔مگر میں جانتا ہوں کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔امور رسالت میں یہ کامیابی اور سعادت کسی اور کو نہیں ملی۔آپ کی آمد کا وہ وقت تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے خود ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ(الـروم:۴۲) سے بیان کیا ہے یعنی نہ خشکی میں امن تھا نہ تری میں۔مراد اس سے یہ ہے کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب بگڑ چکے تھے اور قسم قسم کے فساد اور خرابیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں۔گویا زمانہ کی حالت بالطبع تقاضا کرتی تھی کہ اس وقت ایک زبردست ہادی اور مصلح پیدا ہو۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا اور پھر آپ ایسے وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب آپ کو یہ آواز آگئی اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا(المائدۃ:۴) یہ آواز کسی اور نبی اور رسول کو نہیں آئی۔کہتے ہیں جب یہ آیت اتری اور پڑھی گئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس آیت کو سن کر رو پڑے۔ایک صحابی نے کہا کہ اے بڈھے آدمی تجھے کیا ہوگیا آج تو خوشی کا دن ہے تو کیوں رو پڑا؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ تو نہیں جانتا مجھے اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔حضرت ابوبکرؓ کی فراست بہت تیز تھی انہوں نے سمجھ لیا کہ جب کام ہوچکا تو پھریہاں کیا کام؟ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی بندوبست کا افسر کسی ضلع کا بندوبست کرنے کو بھیجا جاتا ہےوہ اس وقت تک وہاں رہتا ہے جب تک وہ کام ختم نہ ہولے۔جب کام ختم ہوجاتا ہے تو پھر کسی اور جگہ بھیجا جاتا ہے۔اسی طرح پر مرسلین کے متعلق بھی یہی سنت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ امر دریافت کیا گیا تو آپؐنے فرمایا ابوبکر سچ کہتا ہے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ اگر میں کسی کو دنیا میں دوست رکھتا تو ابوبکر کو۔خُلَّت کی حقیقت یہ جملہ بھی قابل تشریح ہے۔حضرت ابوبکرؓ کو آپ دوست تو رکھتے تھے پھر اس کا کیا مطلب؟ بات اصل میں یہ ہے کہ خُلّت اور دوستی تو وہ ہوتی