ملفوظات (جلد 8) — Page 94
جواب دیا کہ یہ محض افترا ہے۔توریت سے کسی ایسے خدا کاپتہ نہیں ملتا۔ہمارا وہ خدا ہے جو قرآن شریف کا خدا ہے۔یعنی جس طرح پر قرآن مجید نے خدا تعالیٰ کی وحدت کی اطلاع دی ہے اسی طرح پر ہم توریت کے رُو سے خدا تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک مانتے ہیں اور کسی انسان کو خدا نہیں مان سکتے۔اور یہ تو موٹی بات ہے اگر یہودیوں کے ہاں کسی ایسے خدا کی خبر دی گئی ہوتی جو عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والا تھا تو وہ حضرت مسیح کی ایسی سخت مخالفت ہی کیوں کرتے؟ یہاں تک کہ انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھوادیا۔اور ان پر کفر کہنے کا الزام لگاتے تھے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو ماننے کے لئے قطعاً طیار نہ تھے۔غرض عیسائیوں نے گناہ کے دُور کرنے کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ ایسا علاج ہے جو بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔۱ انہوں نے گناہ کے دُور کرنے کا علاج گناہ تجویز کیا ہے جو کسی حالت اور صورت میں مناسب نہیں۔یہ لوگ اپنے نادان دوست ہیں اور ان کی مثال اس بندر کی سی ہے جس نے اپنے آقا کا خون کر دیا تھا۔اپنے بچاؤ کے لئے اور گناہوں سے نجات پانے کے لیے ایک ایسا گناہ تجویز کیا جو کسی صورت میں بخشا نہ جاوے۔یعنی شرک کیا اور عاجز انسان کو خدا بنا لیا۔مسلمانوں کے لیے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ ان کا خدا ایسا خدا نہیں جس پر کوئی اعتراض یا حملہ ہو سکے۔وہ اس کی طاقتوں اور قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی صفات پر یقین لاتے ہیں۔مگر جنہوں نے انسان کو خدا بنایا یا جنہوں نے اس کی قدرتوں سے انکار کردیا اُن کے لئے خدا کا عدم و وجود برابر ہے۔جیسے مثلاً آریوں کا مذہب ہے کہ ذرّہ ذرّہ اپنے وجود کا آپ ہی خدا ہے۔اور اس لئے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔اب بتاؤ کہ جب ذرّات کے وجود کا خالق خدا نہیں توان کے قیام کے لئے خدا کی حاجت کیا ہے جبکہ طاقتیں خود بخود موجود ہیں اور ان میں اِتّصال اور اِنفصال کی قوتیں بھی موجود ہیں تو پھر انصاف سے بتاؤ کہ ان کے لئے خدا کے وجود کی کیا ضرورت ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس عقیدہ کو رکھنے والے آریوں اور دہریوں میں ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۶ءصفحہ ۳،۴