ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 89

تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جناب حافظ غلام رسول صاحب مدرس وزیر آبادی ایک اپنے واجب التعظیم صاحب کو قادیان میں معالجہ کے لئے لائے تھے اور چونکہ ان کو حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کی نسبت کچھ شکوک و شبہات تھے اس لئے حافظ صاحب موصوف نے حضرت اقدس کی خدمت میں ان کے حل کرنے کے لئے عرض کی۔اس پر حضور علیہ السلام نے ایک ذیل کی مختصر تقریر فرمائی جس سے ان کے شکوک کا اکثر حصہ رفع ہوگیا اور بجائے نفرت کے دل میں محبت پیدا ہوگئی۔مسئلہ نبوت مجھے ان لوگوں کے اعتراضوں پر تعجب آتا ہے کہ اعتراض کرتے وقت وہ قرآن شریف کی تعلیم اور اسلام کی عظمت اور پاک تاثیرات کو بالکل جواب دے دیتے ہیں۔ایک روحانیت ہی ایسی شے ہے کہ جو خاصہ اسلام ہے اور کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔پس اگر شریعت میں روحانیت ہی نہ رہی تو پھر سوائے اساطیر کے اور کیا باقی رہا۔جو اہل دل ہیں وہ تو سمجھتے ہیں مگر جو کَودن ہیں وہ ان رموز سے بالکل ناواقف ہیں۔جس کو خدا تعالیٰ نے قلب سلیم عطا کیا ہے اور وہ دینی ضرورتوں سے واقفیت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ سلسلہ الہام و وحی کبھی بند نہیں ہوتا۔ہاں ایسی وحی جو بجز قرآن کے کوئی اور نئی شریعت تجویز کرتی ہے وہ بالکل بند ہے اور جو کوئی اس کا مدعی ہو وہ بلا شک و شبہ کافر ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ وہ نبوت ختم ہوگئی لیکن مکالمات و مخاطبات ایسے جس سے ایمان کو ترقی ہوتی ہے وہ جاری ہیں اور رہیں گے کیونکہ اگر آواز کا سلسلہ ہی بند ہوجاوے تو پھر یقین کامل کا طریق کوئی نہیں رہتا۔ایک بند مکان میں اگر آواز یں مارتے رہو اور کوئی جواب نہ آوے تو آخر یہی کہو گے کہ اس میں کوئی نہیں۔پس اسی طرح اگر خدا سے کوئی آواز نہ آوے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ ہے بھی۔پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ الہام اور وحی کا بند ہوگیاہوا ہے تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۶،۷)کو نماز میں