ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 86

۲۰؍فروری ۱۹۰۵ء (قبل از عشاء) خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہدایت حاصل نہیں ہوتی حضور علیہ السلام نے عشاء کی نماز سے کچھ پیشتر تشریف لا کر مجلس فرمائی۔خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا تذکرہ رہا۔بعض کفار کی حالت پر آپ نے فرمایا کہ جب تک خدا تعالیٰ کا فضل انسان کے شامل حال نہ ہو تب تک اسے ہدایت کی راہ نصیب نہیں ہوتی۔بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ موت تک کفر ہی پر راضی رہتے ہیں اور کبھی ان کے دل میں یہ خیال نہیں گذرتا کہ ہم غلطی پر ہیں حتی کہ اسی میں مر جاتے ہیں۔اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بیان فرمایا کہ چند یوم ہوئے ایک دوست بیان کرتے تھے کہ ان کے گاؤں کی آبادی چار سو باشندوں کی تھی۔طاعون جو پڑی تو سب کے سب ہلاک ہوگئے صرف ۴۰شخص بچے۔اور ان میں سے بھی صرف ۹ کس تندرست تھے اور باقی کچھ نہ کچھ مریض ہی تھے۔ان ۹ میں ان کا چچا بھی تھا۔ان کے دل میں آیا کہ اس قدر عبرتناک حادثہ موت کا چونکہ گاؤں میں گذرا ہے ممکن ہے کہ چچا کا دل رقیق ہوا ہو چلو اسے چل کر تبلیغ کر آویں شاید ہدایت نصیب ہو۔باوجود اس کے کہ لوگوں نے اس طاعون زدہ گاؤں میں جانے سے روکا مگر تبلیغ حق کے جوش میں وہ چلے گئے اور جا کر اپنے چچا کو اس سلسلہ کی صداقت کی نسبت سمجھایا۔چچا نے یہ جواب دیا کہ اگر یہ طاعون مرزے کی مخالفت کی وجہ سے ہے تو مجھے خوشی سے اس سے مر جانا قبول ہے بیشک مجھے طاعون ہو۔انجام یہ ہوا کہ وہ اور اس کا تمام بال بچہ تباہ اور ہلاک ہوگیا، مگر مخالفت پر برابر آمادہ رہا اور مرتے دم تک نہ مانا۔۱