ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 85

علیہ السلام نے مغرب اور عشاء کے درمیان مجلس فرمائی اور جو رسالہ دربارہ فتح مقدمہ حضور تصنیف فرما رہے ہیں اس کے مجوزہ مضامین کا مختصر تذکرہ فرمایا۔واجب الادا مہر کی ادائیگی اس کے بعد ایک صاحب نے دریافت کیا کہ ایک شخص اپنی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا مگر وہ عورت کہتی تھی تو اپنی نصف نیکیاں مجھے دے دے تو بخش دوں۔خاوند کہتا رہا کہ میرے پاس حسنات بہت کم ہیں بلکہ بالکل ہی نہیں ہیں۔اب وہ عورت مر گئی ہے خاوند کیا کرے؟ حضرت اقدسؑنے فرمایا کہ اسے چاہیے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دے دے۔اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں سے ہے شرعی حصہ لے سکتی ہے اور علیٰ ہذا القیاس خاوند بھی لے سکتا ہے۔ایک لطیف نکتہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اثناء گفتگو میں ذکر کیا کہ یہ ایک لطیف بات ہے کہ جس قدر مجدّد گذرے ہیں ان کے نام کے محمد یا احمد کی جزو ضروری ہوتی رہی ہے۔قسطنطنیہ میں عجیب قسم کے نام لوگوں کے ہوتے ہیں مگر وہ مہدی جس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تھا اس کے نام میں بھی محمد کا لفظ تھا۔معجزات میں افراط و تفریط موجودہ زمانے کے حالات پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک گروہ تو معجزات سے قطعی منکر ہے جیسے کہ نیچری اور آریہ وغیرہ۔اس نے تفریط کا پہلو اختیار کیا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جو کہ افراط کی طرف چلا گیا ہے جیسے کہ بعض لوگ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے معجزات بیان کیا کرتے ہیں کہ بارہ برس کی ڈوبی ہوئی کشتی نکالی اور حضرت عزرائیل کے ہاتھ سے آسمان پر جا کر قبض شدہ ارواح چھین لیں۔در اصل بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے معجزہ کی حقیقت کو نہیں سمجھا ہے۔معجزہ سے مراد فرقان ہے جو حق اور باطل میں تمیز کر کے دکھادے اور خدا کی ہستی پر شاہد ناطق ہو۔۱